السلام علیکم! محترم میں ایک ادارے PARCO(پاک عرب ریفائنری) کا ریٹائرڈ ملازم ہوں،ادارہ مجھے پنشن کی مد میں ماہانہ کچھ رقم ادا کرتا ہے،ساتھ ہی مجھے اور ہمشیرہ کو مفت طبی سہولت بھی فراہم کرتا ہے،معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے لیے یہ پنشن اور طبی سہولت (بغیر کوئی کام کیے) حاصل کرنا ناجائز تو نہیں ہے؟آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
واضح ہوکہ کسی شخص کے ریٹائرڈ ہونے پر متعلقہ ادارے کی طرف سے اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوے پنشن کی مد میں ہر ماہ جو رقم دی جاتی ہے،وہ ادارے کی طرف سے تبرع اور احسان ہوتا ہےنہ کہ ملازمت کی تنخواہ، لہذا سائل اور اس کی ہمشیرہ کے لیے مذکور پنشن اور اس طرح ادارے کی طرف سے فراہم کردہ دیگر سہولیات سے استفادہ کرنےمیں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کمافی الفتاوى الهندية: أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز.اھ(ج4 ص374 کتاب الھبۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه
وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين
(وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قال - صلى الله عليه وسلم - «تهادوا تحابوا» اھ(ج5 ص687 کتاب الھبۃ ط: سعید)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0