السلام علیکم !گذارش یہ ہے کہ مجھے آپ سے مشورہ چاہیئے میں بہت بڑے مسئلے میں گہری ہوں ،میرا شوہر مرتد ہو گیا ہے ،اسلام کو چھوڑ کر کرسچن مذہب کو اپنا لیا ہے ،اور اس بات کے چھ مہینے ہو گئے ،مجھے بس ابھی ایک مہینے پہلے ہی بتایا ہے،اور پھر رجوع (مطلب ہمبستری کرلی)کرتے ہوئے ساری باتیں بتا ئیں اور طلاق بھی دیدی ،تین مرتبہ سے بھی زائد بولا کہ "میں تمھیں طلاق دیتا ہوں" اس کے بعد میں اس سے الگ ہو گئی ،لیکن میری تین بیٹیاں ہیں، میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کروں ؟ابھی میں اپنے گھر میں ہی ہوں، بچوں کے سکول بھی شروع ہو گئے ہیں ،اور وہ بھی زبردستی کر رہا ہے کہ بچوں کی خاطر یہاں ہی رہوں،کیا ہم ساتھ میں رہ سکتے ہیں ؟گناہ تو نہیں ہے ؟کیا میرا ان کے ساتھ نکاح بر قرار ہے یا ختم ہو گیا ہے؟اگر نکاح ختم ہو چکاہے ،تو جدائی کی صورت میں بچوں کا کیا حکم ہے،میرے پاس ہو نگے یا والد کے پاس ،اور ان کے خرچ اخراجات کا کیا حکم ہے ؟میری تین بیٹیاں ہیں 15،12 ،9 سال کی عمر کی ہیں جو بھی شرعی حکم ہو ،تحریر فرمائیں ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً در ست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر واقعۃً کرسچن مذہب اختیار کر چکا ہو اور شوہر اس کا اقرار بھی کر تا ہو تو وہ مرتد ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے اور دونوں کا نکاح بھی ختم ہو چکا ہے ،لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ شوہر سے علیحدگی اختیار کرے چنانچہ عدت گزارنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی، جبکہ سائلہ کا شوہر مرتد ہونے کی وجہ سےمذکور بیٹیوں پر اس کی ولایت ختم ہوچکی ہے، لہذا مذکور بیٹیاں اپنی مسلمان والدہ کی ولایت اور پرورش میں رہیں گی ، جبکہ مذکور بیٹیوں کی پرورش کے اخراجات اس کے اپنے والد کی جائیداد سے ادا کیے جائیں گے ، لیکن اگر وہ ناکافی ہوں تو پھر ماں اور دادا پر اخراجات لازم ہوں گے ، چنانچہ ایک تہائی ماں پر اور دو تہائی دادا پر لازم ہوں گے۔
کمافی الدرالمختار: ھو لغۃ الراجع وشرعا (الراجع عن دین الاسلام ورکنھا اجراء کلمۃ الکفر علی اللسان بعد الایمان) الخ (ج4 صـ221 باب المرتد ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قولہ: والولد یتبع خیر الابوین) ھذا یتصور من الطرفین فی الاسلام العارض بان کانا کافرین فاسلم او اسلمت ثم جاءت بولد قبل عرض الآخر والتفریق او بعدہ فی مدۃ یثبت النسب فی مثلھا او کان بینھما ولد صغیر قبل اسلام احدھما فانہ باسلام احدھما یصیر الولد مسلما واما فی الاسلام الاصلی فلایتصور الا ان تکون الام کتابیۃ والاب مسلما الخ (ج3 صـ196 باب نکاح الکافر ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: تحت (قولہ: لعدم الولایۃ) تعلیل للمفھوم یعنی ان الکافر لایلی علی المسلمۃ وولدہ المسلم لقولہ تعالی: ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا۔ الآیۃ (ج3 صـ77 باب الولی ط: سعید)۔
وفی المبسوط للسرخسی: والمرتد مستحق للقتل فما كان سبب البقاء لا يكون مشروعا فی حقہ، والثاني: أن قتله بنفس الردة صار مستحقا، وإنما يمهل ثلاثة أيام؛ ليتأمل فيما عرض له من الشبهة ففيما وراء ذلك جعل كأنه لا حياة له حكما فلا يصح منه عقد النكاح الخ (ج5 صـ48-49 باب نکاح المرتد ط: دارالکتب العلمیۃ)۔
و فی الخانیۃ : صغیر مات ابوہ ، و لہ ام و جد ( اب الاب ) کانت نفقتہ علیھما اثلاثا : ثلث علی الام و الثلثان علی الجد ۔( ج1ص۔449ط۔ ماجدیہ)۔
وفی فقہ الاسلامی وادلتہ:طلاق المرتد بعدالدخول موقوف فان أسلم فی العدۃتبینا وقوعہ وان لم یسلم حتی انقضت العدۃ أو ارتد قبل الدخول فطلاقہ باطل،لانفساخ النکاح قبلہ باختلاف الدین (طلاق المرتدج7 ص354 ط:رشیدیہ)۔
وفی الدرالمختار:(وارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلاينقص عددًا (عاجل)بلا قضاء وعليه نفقة العدة۔
وفی ردالمحتار:تحت(قوله:بلاقضاء) أي:توقف على قضاء القاضي ...(قوله: و عليه نفقة العدة) أي لو مدخولًا بها إذ غيرها لا عدة عليها. وأفاد وجوب العدة سواء ارتد أو ارتدت بالحيض أو بالأشهر لو صغيرة أو آيسة أو بوضع الحمل(ج 3ص 193ط:سعيد)۔
وفی الھندیہ: ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول وبعده(کتاب النکاح ج1 ص339ط: دار الفكر)۔