اگر کسی شخص کا نام "عبد الجبار" ہے اور کوئی اسے "جبار " پکار تا ہے اور غصہ میں اس کو برا بلا (گالی) دیتا ہے سبقت لسانی کی وجہ سےلیکن ایک تیسرا شخص سن کر کہتا ہے کہ "جبار"تو اللہ تعا لی ٰ کانام ہے اور جس شخص نے گالی دی (نعوذباللہ) اس کا اللہ تعالیٰ کی نام کا بے احترامی کا ارادہ نہیں تھا، کیونکہ وہ صرف اس متعین شخص "عبد الجبار" کے بارے میں بات کررہا تھا اس کو "عبد الجبار" کہتے ہوئے ، اور ان کے بارے میں برے الفاظ کہے ، کیا اس صورت میں اس کو تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے؟
واضح ہو کہ جس شخص کا نام اللہ تبارک و تعا لیٰ کے صفاتی ناموں میں سے کسی صفت کی طرف نسبت و اضافت کرکے رکھا جاتا ہے ،جیسے "عبد الجبار " وغیرہ اس نام کا ذکر کرتے ہوئے اس سے وہی موسوم شخص ہی مراد ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا قصد نہیں ہوتا - لہذا اگر کوئی شخص "عبد الجبار" نامی شخص کو فقط "جبار "کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے گالم گلوچ کرلے تو چونکہ اس سے مقصود وہی متعین شخص ہوتا ہے اس لئے ان الفا ظ سے اس شخص کا ایمان زائل نہ ہوگا اور نہ ہی تجدید ِایمان ونکاح کی ضرورت ہے ،-تاہم کسی مسلمان شخص کو گالم گلوچ کرنا شریعتِ مطہرہ کی رو سے ایک قبیح اور نا جائز فعل ہے ، اسی طرح جو صفاتی نام اللہ رب العزت کے ساتھ خاص ہوں جیسے"جبار، غفار وغیرہ " تو ان کے ساتھ لفظِ عبد لگائے بغیر فقط "جبار، یا غفار" کے ساتھ کسی کا نام رکھنا یا مخاطب کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
و فی المشکوۃ: عن عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سباب المسلم فسق و قتالہ کفر ( متفق علیہ) (ص 411، ط: قدیمی کتب خانہ)
و فی المرقاۃ تحت قولہ( سباب المسلم) بکسر اولہ ای شتمہ( الی قولہ)( فسوق) لأن شتمہ بغیر حق حرام قال الاکمل: الفسوق لغۃ الخروج زنۃ و معنی و شرعاً ھو الخروج عن الطاعۃ الخ (ج 8، ح 4814، کتاب الآداب، باب حفظ اللسان و الغیبۃ و الشتم، ص 561، ط: مکتبہ حقانیہ)-
و فی الدر ( احب الاسمآء الی اللہ تعالی عبد اللہ و عبد الرحمٰن) و جاز التسمیۃ بعلی، و رشید من الاسمآء المشترکۃ و یراد فی حقنا غیر ما یراد فی حق اللہ تعالی، لکن التسمیۃ بغیر ذالک فی زماننا اولی لان العوام یصغرونھا عند النداء کذا فی السراجیۃ
و فیھا (من کان اسمہ محمداً لا بأس بان یکنی ابا القاسم)الخ
و فی الرد تحت قولہ ( لکن التسمیۃ) قال ابو اللیث ( الی قولہ) لانھم لایعرفون تفسیرہ ( الی قولہ) حیث ینادون من کان اسمہ عبد الرحیم، و عبد الکریم، أو عبد العزیز،مثلاً فیقولون: رحیم و کریم و عزیز بتشدید یآء التصغیر، و من اسمہ عبد القادر، قویدر و ھذا مع قصدہ کفر، ففی المنیۃ من الحق اداۃ التصغیر فی آخر اسم عبد العزیز او نحوہ مما اضیف الی واحد من الاسمآء الحسنیٰ ان قال ذالک عمداً کفر و ان لم یدر ما یقول و لا قصد لہ لم یحکم بکفرہ و من سمع ذالک منہ یحق علیہ ان یعلمہ الخ( کتاب الحظر و الاباحہ، فصل فی البیع، ج 6، ص 417، ط: ایچ ایم سعید)-