السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ الحمدللہ ہم فزیکل پروڈکٹس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں لیکن ڈیجیٹل پروڈکٹس جیسے گوگل، یوٹیوب، فیس بک وغیرہ کا بائیکاٹ نہیں کر رہے، وہ ان پلیٹ فارمز سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں ،لیکن میں نے دیکھا کہ کچھ علماء کے چینلز معمول کے مطابق چل رہے ہیں، اور اس پر اشتہارات دکھائے جا رہے ہیں، فلسطینی ڈویلپر کی جانب سے بنائ گئی "نو تھینکس" ایپلی کیشن میں گوگل اور یوٹیوب بائیکاٹ کی فہرست میں ہیں، اور یہ وجہ دی گئی ہے: گوگل اور ایمیزون پروجیکٹ نمبس پر کام کر رہے ہیں، اس کی لاگت تقریبا 1.2 بلین ڈالر ہے ،اور اس سے اسرائیلی فوج کو فائدہ ہوگا، اور فلسطینیوں کو نقصان پہنچے گا، میں یہ اس لیے پوچھ رہا ہوں کیونکہ میں اپنے نئے کاروبار کے لیے فیس بک، یوٹیوب اشتہارات چلانا چاہتا ہوں، لیکن بائیکاٹ کی وجہ سے رک گیا ہوں، لہٰذا اگر میں ان پلیٹ فارمز کو استعمال کروں گا، تو کیا میری کمائی حلال ہوگی، اور فلسطین کو نقصان اور امریکہ اور اسرائیل کو کوئی فائدہ تو نہیں ہوگا؟ جزاک اللہ خیر۔
اس وقت جب اسرائیل پوری قوت و طاقت کے ساتھ نہتے فلسطینیوں پر ظلم اور بربریت کررہا ہے، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ غیرت ایمانی کا تقاضہ ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے ساتھ انکے غم میں شریک ہونے کے مترادف ہے، جو کہ موجب اجر وثواب ہے، اور فلسطینی بھائی بہنوں کی مدد کی خاطر ہر مسلمان کو اس بائیکاٹ کا حصہ بننا چاہیئے۔
جبکہ اسرائیلی ٹیکنالوجیز یا ہر وہ ٹیکنالوجی جو اسرائیل کو فنڈدیتی ہے کے بائیکاٹ کا بھی یہی حکم ہے، جو دیگر عام چیزوں کا ہے، لیکن عام چیزوں کے متبادل چونکہ مارکیٹ میں بآسانی دستیاب ہیں جسکی وجہ سے معمولی مشقت کے ساتھ انکا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے، جبکہ ٹیکنالوجیز خاص کر مواصلاتی ٹیکنالوجیز کا بائیکاٹ اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا، جب تک معاشرے کی ایک بڑی تعداد ایک ساتھ متبادل ٹیکنالوجیز پر منتقل نا ہوجائے، لہذا ایسی صورت میں صرف چند اشخاص کا مخصوص ٹیکنالوجیز کا بائیکاٹ غیر معمولی مشقت کا باعث بنتا ہے، اس لیے اگر اسرائیلی ٹیکنالوجیز سے نفرت کرتے ہوئے اسکا استعمال کیا جائے ،تو امید ہے کہ اس پر کوئی عقاب نہ ہوگا،لہذا اگرسائل غیر شرعی امور سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے کاروبار کی تشہیر کے لئے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرے تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
قال الله تعالى في القرآن الكريم: «وَتَعَاوَنُوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَان»، (المائدة آية 2)۔
وقال تعالى في القرآن الكريم: لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (الممتحنة:8)۔
وفی الدر المختار: (ولم نبع) في الزيلعي يحرم أن نبيع (منهم ما فيه تقويتهم على الحرب) كحديد وعبيد وخيل (ولا نحمله إليهم ولو بعد صلح) ؛ لأنه - عليه الصلاة والسلام - نهى عن ذلك وأمر بالميرة وهي الطعام والقماش فجاز استحسانا الخ (ج4 صـ134 کتاب الجہاد ط: دار الفکر)۔
فتاوی مفتی محمود میں ہے: "یہودی کمپنیوں کا مال خریدنا اور ان کو نفع پہنچانا جائز نہیں ہے، یہودی اسلام کے خلاف آج کل محارب ہیں، ان کے ارادے یہ ہیں کہ حجازِ مقدس بالخصوص مدینہ طیبہ زادہا اللہ شرفاً اور اس کے گرد و نواح کو فتح کر لیں، ان کے زعم میں یہ دراصل یہودی علاقے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہودِ مدینہ، بنی نظیر، بنی قینقاع، یہود خیبر ان علاقوں کے مالک تھے، اس حالت میں کوئی ایسی چیز بازار سے نہ خریدی جائے جس سے یہودی کی مالی پوزیشن مستحکم ہو، قرآن کریم میں ہے:ولا ينالون من عدو نيلا إلا كتب لهم به عمل صالح الآية، لا نکرہ ہے، تحت النفی مفید استغراق ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ دشمن کو کسی طرح کوئی بھی نقصان پہنچانا عملِ صالح ہے، فقہاء کی عبارات سے بھی اسی طرح کے حوالہ جات نقل کیے جا سکتے ہیں کہ مسلمانِ عالم کو اجتماعی طور پر یہودیوں کے اموال تجارت کا بائیکاٹ کرنا لازم ہے ۔"(ج:۱۱، ص:۲۰۴)