میرا سوال ایزی پیسہ کے بارے میں ہے۔ مولانا میں ایزی پیسہ ریٹیلر ہوں، میرے پاس ایزی پیسہ کسٹمر کئی مقاصد کے لیے آتے ہیں، مثلاً وڈرا ،ڈپوزٹ، بلنگ یا سکول کی فیس جمع کرنے کے لیے آتے ہیں، کمپنی کی ہدایات کے مطابق ڈپوزٹ پر آج تک میں نے الحمدللہ ایک روپیہ بھی اضافی چارج نہیں کیا، اگر کسی نے 20 ہزار روپے اپنے اکاؤنٹ میں ڈپوزٹ کروائے ہیں تو میں نے 20 ہزار ہی لیے ہیں اور پورے 20 ہزار اس کے اکاؤنٹ میں ڈپوزٹ کیے ہیں ، اضافی چارجز نہیں لیے ہیں، اسی طرح یوٹیلٹی بلز اور اسکول کی فیس کی بھی آج تک میں نے اضافی فیس نہیں لی ہے، جب کسٹمر اپنے اکاؤنٹ سے نقد رقم نکلوانا چاہتا ہے تو کمپنی 10 ہزار پر 180 اور 20 ہزار پر 330 روپے چارج کرتی ہے، اب ہم دکاندار یہ کرتے ہیں کہ جب کوئی کسٹمر اپنی رقم نکلوانا چاہتا ہے تو ہم کمپنی کی سم استعمال نہیں کرتے، بلکہ کسٹمر کی رقم ہمارے پاس موجود دوسرے موبائل اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیتے ہیں، جس کی کمپنی کسٹمر سے فیس چارج نہیں کرتی، بلکہ ہم( دکاندار) کسٹمر سے اتنے ہی چارج لیتے ہیں ، جتنا کمپنی لیتی ہے، یہ اس لیے کرتے ہیں کہ اگر ہم کمپنی کی سم وڈرا کے لیے استعمال کریں گے تو 10 ہزار پر 180 روپے کے بجائے ہمیں 20 یا 25 روپے منافع ملتا ہے، جو کہ دکان دار کے لیے ناکافی ہوتا ہے، اگر ہم صرف کمپنی کے کمیشن پر گزارا کریں گے تو آپ یقین جانیے کہ ہم تین چار لاکھ کے لین دین میں سارے دن میں پانچ سو یا چھ سو یا 700 کما سکیں گے، جبکہ میری دکان کے روزانہ کے اخراجات تقریباً ایک ہزار سے 1500 بنتے ہیں اور اگر ہم یہی طریقہ استعمال کرتے ہیں ، جو کہ آپ کو بتا دیا تو ہمیں دو سے تین ہزار بچ جاتے ہیں، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا ناجائز ہے؟ کسٹمر کی رقم ہم اپنے دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیتے ہیں اور اس سے اتنی فیس چارج کر لیتے ہیں جتنی کمپنی کرتی ہے، قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں گے تو آپ کی بہت مہربانی ہوگی ۔شکریہ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سائل چونکہ ایزی پیسہ ریٹیلر ہے اورایزی پیسہ ریٹیلر کا کسٹمر کی رقم کمپنی کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے بجائے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنا اور اس پر کسٹمر سے چارجز لینا کمپنی اور کسٹمر کے ساتھ دھوکہ دہی کی ایک صورت ہے، جو کہ شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني» الخ ( ج 1 ص 99 ط: بیروت)۔