السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں ؟ہمارا گارمنٹس کا کام ہے ،ٹی شرٹس بناتے ہیں اور اسے فروخت کرتے ہیں، ہمیں اپنی برانڈ کی تشہیر کے لئے مختلف افراد کو ٹی شرٹس بھیج کر ان سے (Advertisement) کرانے کی ضرورت پیش آتی ہے ،جیسا کہ بعض مشہور برانڈ (J. , MTJ , (Diners, Al deebaj, Hungry habibi والے اپنی پروڈکٹس مختلف لوگوں کو بھیجتےہیں اور وہ انہیں پہن کر مختلف زاویے سے تصاویر یا ویڈیوز بناکر کمپنی کو دیتے ہیں، جس کی وہ تشہیر کرتے ہیں،پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح کی (Advertisement) کرانا جائز ہے یا نہیں ؟اگر جائز ہے تو اس کی شرعی حدود(Limitations)کیا ہیں؟ اس میں کن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے؟ تاکہ کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئےہم جائز طریقے سے اپنے برانڈ کی تشہیر کرواسکیں ۔جزاکم اللہ خیرا
سائل اگر اپنے ٹی شرٹس مشہور لوگوں کو بھیج کر ان کی ویڈیوز اور تصاویر حاصل کر کے اپنے برانڈ کی تشہیر کرے،اور یہ ویڈیوز وغیرہ خواتین کی تصاویر ،میوزک،فحاشی وغیرہ پر مبنی غیر شرعی مواد پر مشتمل نہ ہوں اور اس میں دھوکہ دہی سےبھی بچا جائے،تو سائل کے لئے شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
کما فی مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذابا عند الله المصورون ( باب التصاویر، ج 2، ص 385،ط: قدیمی)۔
و في تكملة من الملهم: أما التلفزيون والفدیو، فلاشك في حرمة استعمالها بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة (إلی قوله) ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة وانما هي تظهر وتفنی اھ (إلی قوله) الصورة لا تستقر على الكيمرا، ولا على الشاشة وانما هي اجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشاشة وتظهر عليها بترتيبها الاصلى ثم تفنی وتزول وأما إذا احتفظ باالصورة في شريط الفيديو فان الصور لا تنقش على الشريط وانما تحفظ فيها الاجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة فاذا ظهرت هذه الاجزاء على الشاشة ظهرت مرة اخرى بذلك الترتيب الطبيعي ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة وإنما هي تظهر و تفنى فلا يبدوان هناك مرحلة من المراحل تنتقش فيها الصورة على شئى بصفة مستقرة أو رائمة وعلى هذا فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة مشكل الخ ( ج 4 ، ص 164 ، ط : دار العلوم کراتشی ) ۔
و فی الدر المختار : ( لاتصح الاجارۃ لعسب التیس ) و ھو نزوہ علی الاناث ( و ) لا (لاجل المعاصی مثل الغناء و النوح و الملاھی الخ ( باب اجارۃ الفاسدۃ، ج 6، ص 55، ط : ایچ ایم سعید )۔