میری نند اور ساس مجھ سے دوسرے شہر سے چیزیں منگواتی ہیں ، وہ چیز کی قیمت تو ادا کرتے ہیں، لیکن کرائے کے پیسے نہیں دیتے، کیا میں کسی چیز کی قیمت زیادہ بتا کر اپنا کرایہ نکال سکتی ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا کرایہ نکالنے کے لیے قیمت بڑھا کر بتانا جائز نہیں، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ قیمت اور کرایہ دونوں واضح طور پر بتا کر، باہمی رضامندی سے رقم لی جائے۔
کما فی القرآن المجید: (یأیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارۃ عن تراض منکم) الآیۃ۔ (سورۃ النساء، آیت نمبر: 29)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال مال امرئ إلا بطیب نفس منہ رواہ البیھقی فی شعب الأیمان و الدار قطنی فی المجتبی۔الحدیث۔ (باب الغصب و العاریۃ، ج 1،2، ص 255، ط: قدیمی)۔
و فی الدر المختار: کون الأجرۃ و المنفعۃ معلومتین؛ لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ إلخ۔ (کتاب الإجارۃ، ج 6، ص 5، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: و أما ما یرجع إلی العاقد: فرضا المتعاقدین، لقولہ عز و جل: (یأیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارۃ عن تراض منکم) و الإجارۃ تجارۃ؛ لأن التجارۃ تبادل المال بالمال؛ و الإجارۃ کذالک؛ و لھذا یملکھا المأذون و أنہ لا یملک ما لیس بتجارۃ، فثبت أن الإجارۃ تجارۃ، فدخلت تحت النص إلخ۔ (کتاب الإجارۃ، ج 5، ص 538، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔