کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ہذا میں کہ ایک شخص امام ہے، اور شادی شدہ ہے ، لیکن چند عوارضات کی بناء پر وہ اپنے پاس عورت کو نہیں رکھتا ہے، چونکہ اس کی والدین ضعیف العمر ہیں ، لہٰذا کچھ عرصہ بعد یہ پیش امام چھٹی پر گاؤں جاتا ہے، اور چار ماہ بعد واپس آتا ہے، تو کیا اس امام کے پیچھے نماز جائز ہے؟ یعنی ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟ کیا یہ بات درست ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے؟ ایک شخص یہ اعتراض کرتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ سے سائل کی منشاء اگر یہ ہو کہ اتنی طویل چھٹی کے باوجود امام موصوف تنخواہ بھی لیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے یا نہیں ہے ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب امام موصوف مسجد انتظامیہ سے باضابطہ چھٹی لیکر جاتے ہیں، اور ان کی مذکور مجبوری کی بناء پر انتظامیہ کمیٹی بھی ان کے ساتھ ہمدردی اور احسان والا معاملہ رکھتی ہے، تو اس صورت میں ہر دو امر جائز اور درست ہیں، بلا وجہ معترض بننے سے احتراز لازم ہے ۔
وفي الدر المختار: وهل يأخذ أيام البطالة كعيد ورمضان لم أره وينبغي إلحاقه ببطالة القاضي. واختلفوا فيها والأصح أنه يأخذ اھ (4/ 372)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0