فحاشی

گناہ کبیرہ میں معاونت کرنے والے شخص کی دعوت میں شرکت

فتوی نمبر :
81823
| تاریخ :
2025-03-05
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / فحاشی

گناہ کبیرہ میں معاونت کرنے والے شخص کی دعوت میں شرکت

"السلام علیکم "مجھے ایک آدمی نے اپنےگھر میں دعوت دی،جو ایسی جگہ کام کرتا ہے،جہاں لواطت کرنے والے لوگ چندہ دیتے ہیں، اس میں اکثر چندہ لواطت کرنے والے کی طرف سے آتا ہے،اور تنخواہ بھی اس چندہ سے دی جاتی ہے، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس آدمی کیلئے یہ تنخواہ لینا حلال ہے یا نہیں؟میرا اس کی دعوت میں شریک ہونا ٹھیک ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ ادارے کی آمدنی ایسے افراد کے عطیات اور چندوں سے حاصل ہوتی ہے جو اگرچہ خود گناہِ کبیرہ (لواطت) میں مبتلا ہیں، لیکن ان کا دیا ہوا مال بذاتِ خود حرام ذرائع (جیسے چوری، ڈاکہ، سود وغیرہ) سے حاصل نہ کیاگیاہو، تو محض ان کے گناہ گار ہونے کی وجہ سے وہ مال فی نفسہٖ حرام قرار نہیں پائے گا۔ لہٰذا اس ادارے میں جائز نوعیت کی ملازمت کرنے والے شخص کی تنخواہ بھی حلال ہوگی، اس کو حرام نہیں کہا جاسکتا۔اورایسے شخص کی دعوت میں شریک ہونے کی گنجائش ہوگی۔
البتہ اگروہ ادارہ خود ناجائز افعال کی ترویج، حمایت یا معاونت کرتا ہو، تواس کی آمدن حرام قرارپائے گی اوراس صورت میں ایسی ملازمت سے احتراز ضروری ہے۔اورجب تک وہ شخص اس ملازمت کوترک نہیں کردیتا(خواہ اس کی آمدن حلال ،حرام مال سےمخلوط ہو) تودینی حمیت کاتقاضایہی ہے کہ ایسے گناہ کبیرہ میں معاونت کرنے والے شخص کی دعوت میں شرکت سےاجتناب کیاجائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الشامیۃ: (قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: ‌رجل ‌اكتسب ‌مالا ‌من ‌حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام،(باب المتفرقات، اذااکتسب حراماًثم اشترٰی فھوعلٰی خمسۃ اوجہ،ج:5،ص:235،م: کراچی)
وفی الدرالمختار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر)اھ۔
وفی الشامیۃ:تحت (قوله وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «‌لعن ‌في ‌الخمر ‌عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره(فصل فی البیع،ج: 6،ص:39 2،م:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق غفور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81823کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فحش فلمیں دیکھنا اور فحش ناول اور کہانیاں لکھنا اور پڑہنا

    یونیکوڈ   فحاشی 0
  • بیوی سے ہمبستری کرتے ہوئے شیشے میں ایک دوسرے کو دیکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   فحاشی 0
  • گناہ کبیرہ میں معاونت کرنے والے شخص کی دعوت میں شرکت

    یونیکوڈ   فحاشی 0
Related Topics متعلقه موضوعات