السلام علیکم!
مفتی صاحب سے سوال ہے، میں برطانیہ میں رہتی ہوں اور میرے شوہر کی بہن مسلمان ہیں اور (ریپوٹر/خبروں کے نمائدے کا کام کرتی ہیں) ۔ وہ قادیانی کمیونٹی کے اکثر انٹرویو کرتی ہے ، پاکستان اور باہر ممالک میں (حقوق احمدیہ/قادیانی کمیونٹی، یا ان سے منسلک قتل و غارت کے مضامین پر اور ان کے لیے اس موضوعات پر آواز اٹھاتی ہیں سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر)۔ ان سب کاموں کے لیے جیسے انٹرویو اور بروڈکاسٹ کے لیے قادیانی کمیونٹی انہیں اپنے پاس بلاتی(اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان) ہے اور اس کام کے لیے انھیں پیسے دیتی ہے ۔ اب وہ خاتون ہمارے گھر پر بھی آتی ہیں اور تحفے لاتی ہیں ہمارے لیے اور ہمارے بچے کے لیے، اور کبھی کبھی جب ہم باہر کھانا کھانے جاتے ہیں تو وہ کھانے کے پیسے بھی دے دیتی ہیں۔ کیونکہ قادیانی کمیونٹی کے ساتھ تو کاروبار یا دوسرے معاملات سے حتی الامکان بچنا چاہیے الا یہ کے کوئی بہت مجبوری ہو۔ اب اس فیملی ممبرکو سمجھانا بھی ممکن نہیں ان کے مزاج کی وجہ سے۔
تو سوال یہ ہے کہ ان خاتون سے تحفے تحائف لینا اور ان کے پیسے ادا کیے ہوئے کھانے کو کھانا درست ہے اور ان خاتون کو لے کا ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے انکے تحفے اور پیسوں کے ادائیگی میں تاکہ ہمارے معاملات بھی خراب نہ ہوں اور کوئی حرام کا لقمہ کھانے کا اندیشہ نہ ہو ہمارے اور بچے کے لیے؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کی نند کسی ادارے کے ساتھ وابستہ ہو ،اور اس کا بنیادی کا م خبروں کی رپوٹنگ کرنا ہو، اور اس ضمن میں وہ قادیانی کمیونٹی کے بھی انٹرویوز کرتی ہو، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہو، تو ایسی صورت میں اس کی جانب سے لائےگئے تحفہ تحائف قبول کرنا یا اس سے باہر کسی ریسٹورنٹ میں جاکر کھانا کھانے کی اگرچہ گنجائش ہے، مگر قادیانی حضرات چونکہ نبی آخر الزماں ﷺ کے ختم نبوت کے منکر ہیں ،اور دائرہ اسلام سے خارج اور زندیق ہے ، اس لیے ان کے ساتھ مراسم رکھنا یا ان کے لیے دل میں نرم پہلو رکھنا ، یا ان کی بے جا حمایت کرنا ، غیر ت ایمانی کے خلاف طرز عمل ہے ، اس لیے سائلہ کو چاہیئے کہ وہ اسے حکمت ، پیار و محبت سے سمجھانے کی کوشش کرتی رہا کرے اور اس کے حق میں اللہ تبارک و تعالی سے دعا بھی کرے ، لیکن اگر اس کے ساتھ یوں میل ملاپ سے سائلہ یا اس کے گھر والوں کے نظریات کے بگڑنے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں انھیں چاہیے کہ وہ اسے شعور دلائے بغیر ، اس سے زیاہ میل جول رکھنےسے احتیاط کرے ۔
کما فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما اھ (باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات ج:8 ص:3146 الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان)
وفی الفتاوی الھندیة: يكره للمشهور المقتدى به الاختلاط إلى رجل من أهل الباطل والشر إلا بقدر الضرورة لأنه يعظم أمره بين أيدي الناس اھ (الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم ج:5 ص:346 الناشر:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )