کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس حوالے سے کہ ایک عورت جوکہ ایک گھر میں ٹیوشن پڑھاتی ہیں اور کم و بیش ٢٥ سالوں سے پڑھا رہی ہیں۔ اور ان کے بھائی وغیرہ بھی ٹیوشن پڑھا کر اور نوکری کرکے گھر کےاخراجات چلا رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی لڑائی والدہ سے ہوئی جس پر انہوں نے والدہ کو والد کو، بھائیوں کو گالیاں دیں اور ایک الگ کمرے میں رہنا شروع کردیا ،جہاں وہ اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھیں اور ساتھ ہی اسٹیٹس پر بھی اپنی لڑائی کا آغاز کردیا جس میں ان کا سب سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ چونکہ ٢٥ سالوں سے انہوں نے بچوں کو پڑھاکر گھر کا خرچہ چلایا ،اس لئے اب ان کو وہ پیسے واپس چاہیے ، تو انکے ایک بھائ نے ١٢٠٠٠٠ روپے اس شرط پر دے دیے کہ وہ مزید والدین کو پریشان نہیں کریں گی اور مزید اسٹیٹس نہیں لگائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے والدین نے بیٹھ کر معافی بھی مانگی ،اس کے باوجود بھی اس عورت نے سوشل میڈیا کا استعمال ترک نہیں کیا۔ اور یہاں تک کہہ دیا کہ میراکسی سے بھی کوئی تعلق نہیں اور میرا جنازہ میرے اسٹوڈنٹس اٹھائیں گے۔ اسی تکلیف کے ساتھ ان کے والد صاحب انتقال فرما گئے، اس کے بعد اس خاتون کی والدہ نے بہن ، بھائیوں نے کوشش کی کہ مسئلہ حل ہو ،مگر اس عورت نے اپنی یہ روش نہیں تبدیل کی اور والد کے انتقال کے بعد والدہ کے گھر سسرال والوں نے تعزیت کےلئے آنا جانا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اس خاتون نے خاندان والوں سے گھر چلانے کے نام پر لاکھوں روپے لیے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ وہ خاتون کسی شخص سے ادھار پر لیتی ہیں اور ادھار کے ساتھ سود دیتی ہیں جیسے کہ ایک لاکھ روپے لیے اور ایک لاکھ چالیس ہزار روپے واپس کیے۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔ جس کا پتہ کسی کو بھی نہیں تھا۔ جبکہ ان باتوں کے معلوم ہونے کے بعد خاتون نے گھر میں موجود فیملی کو مزید پریشان کرنا شروع کردیا اور مالک مکان کے ساتھ مل کر گھر کا پانی بند کروایا اور جو داخلی و خارجی دروازہ تھا وہ بند کروادیا گیا۔ اسی پریشانی میں والدہ اور فیملی نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا، اور اس خاتون کو بھی گھر چھوڑنے کا کہا کہ ساتھ چلنا ہے اس پر ایک اور خاتون جو کہ ان کی بڑی بہن تھیں اور دوسرے ملک میں رہتی ہیں انہوں نے کہا کہ کیونکہ گھر چلانے میں اماں کو پریشانی ہو رہی ہے اس لئے یہ ساتھ لیکر جارہی ہیں تو وہ ساتھ نہیں جائے گی۔ والدہ نے نہ چاہتے ہوئے بھی گھر الگ کرلیا اور الگ رہنے لگے۔ اور اسی گھر میں والدہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد بھی یہ خاتون خاندان کے لوگوں سے رابطہ کرکے پیسے طلب کرتی ہیں ۔
اب خاندان والے سب بھائیوں کو اور ایک بہن کو قطع تعلقی کی احادیث سناکر وعید سنا کر ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ کیا ان سارے معاملات کے بعد جب کہ اب والدین کا بھی انتقال ہوگیا اور اب مزید انتشار بھی ہورہا ہے کیا اس وجہ سے فیملی کو قطع تعلقی کا گناہ ہوگا یا انکا یہ عمل درست ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کابیان اگرحقیقت پرمبنی ہواوراس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہ ہوتوچونکہ مذکورہ خاتون مسلسل مرحوم والدین، بہن بھائیوں اور خاندان کو مالی طور پر نقصان پہنچانے ، سوشل میڈیا پر بدنام کرنے، سودی لین دین اور فساد میں مبتلا ہونےکی وجہ سےمسلسل ذہنی اذیت اورکوفت کاسبب بنتی چلی آرہی ہیں اور اصلاح کی کوششوں کے باوجود اپنی روش نہیں بدلتیں، لہٰذا ایسی صورت میں ان سے وقتی طور پر تعلق محدود کرنا شرعاً جائز ہے۔یہ قطع رحمی کے زمرے میں نہیں آتا، بشرطیکہ دل میں اصلاح اور ہدایت کی نیت ہو اور مکمل طور پر ہمیشہ کے لیے تعلق توڑنے کی نیت نہ ہو۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل :"وَالَّذِينَ يَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ"(الرعد: 25)
وفی الجامع الصحیح لمسلم:«عن محمد بن جبير بن مطعم، عن أبيه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "لا يدخل الجنة قاطع". قال ابن أبي عمر: قال سفيان: يعني قاطع رحم.» (4/ 1981 ت عبد الباقي)
وفی الشامیۃ : فإن خاف على نفسه أو على دينه من مخالطته جاز له تركه وقطع مخالطته"(9،/ 578، دار الفکر)
وفي فتح الباري لابن حجر:«قال بن عبد البر أجمعوا على أنه لا يجوز الهجران فوق ثلاث إلا لمن خاف من مكالمته ما يفسد عليه دينه أو يدخل منه على نفسه أو دنياه مضرة فإن كان كذلك جاز ورب هجر جميل خير من مخالطة مؤذية»(10/ 496 ط السلفية)