السلامُ علیکم
عرض ہے کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور ہماری تنخواہ سے ہر ماہ جی پی فنڈ کی مد میں کچھ رقم کی کٹوتی ہوتی ہے اور جب وہ رقم ملتی ہے تو اس پر سالانہ دس فیصد تک کا سود بھی ملتا ہے ،پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ سود کی رقم لینا جائز ہےِ اور گورنمنٹ کا کوئی ایسا قانون بھی نہیں ہے کہ جو نہ لینا چاہے وہ ادارے کو آگاہ کردے، اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ برائے مہربانی فرماکر آگاہ کیجئے ۔
جبری پراویڈنٹ فنڈ پر جو سود کے نام پر اضافی رقم دی جاتی ہےوہ اجرت (تنخواہ) ہی کا ایک حصہ ہے، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، البتہ اگر پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس میں تشبہ بالر با بھی ہے اور ذریعۂ سود بنا لینے کا خطرہ بھی ہے، اس لئے اس سے اجتناب کیا جائے ۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0