السلام علیکم ! حکومت اپنے مستقل ملازمین کی رقم کا کچھ حصہ بطور GP فنڈ کٹوتی کرتی رہتی ہے۔ اور ہر سال اس رقم پر ایک مخصوص شرح سے منافع لگا دیتی ہے۔کیا اس طرح سے لگایا گیا اضافہ جائز ہے یا سود کے زمرے میں آتا ہے؟ چونکہ روپیہ حکومت کے پاس رہتا ہے، لیکن مسلسل ڈی ویلیو بھی ہوتارہتا ہے، جس سے ملازمین کو مسلسل نقصان ہوتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں!
واضح ہو کہ جی پی فنڈ کی دو قسمیں ہیں (1)جبری (2) اختیاری
جبری جی پی فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے ، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یاکسی نام سے دی جائیں، لہٰذا ملازم کے لئے یہ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے ۔
جبکہ جی پی فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے ، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اس پرجو رقم محکمہ بنام سود دے گا ، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا درست نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔ اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی ہے، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائےیا وصول کرکے بغیر نیتِ ثواب کسی مستحقِ زکوٰۃ کو صدقہ کردیا جائے۔
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0