کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں میری شادی کو چند ماہ ہو چکے ہیں، میرا شوہر پہلے دن سے مجھے کہہ رہا ہے کہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا ، میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں، میں تمہیں چھوڑ دوں گا ،جھوٹی قسمیں بہت کھاتا ہے، بات بات پر قرآن پاک اٹھا لیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اذیت دیتا ہے، خود کو مارتا ہے چھری سے بیٹھے بیٹھے اپنا ہاتھ کاٹ لیتا ہے۔ نشہ بھی کرتا ہے، مجھے بار بار طلاق کے دھمکی دیتا ہے، کچھ دن پہلے مجھے کہا کہ اگر تو میرے گھر آئی تو میں تجھے طلاق دے دوں گا، چھوٹے بھائی کو بھی یہی کہا اگر اسے میرے گھر لایا تو طلاق دے دوں گا، ایک دن سورۂ یاسین کی طرف دیکھ کر کہنے لگا تو جھوٹا ہے ، تیری ساری باتیں جھوٹی ہیں تو دعا قبول نہیں کرتا اور جھوٹ بولتا ہے کہ سچے دل سے مانگو تو میں دوں ا (معاذ اللہ ) ۔ ایک دن کہنے لگا کاش میں ہندو کے گھر پیدا ہوتا ، میں شیعہ ہوتا، اکثر نوحے سنتا اور پڑھتا ہے، ماتم بھی کراتا ہے۔ مجھے کہتا ہے کہ اگر کبھی میں تمہیں طلاق کا لفظ بول دوں تو اسے مذاق سمجھنا اور برا مت ماننا، میں منہ سے بھی طلاق نہیں مانتا میں کاغذات مانتا ہوں، شک بہت کرتا ہے، مجھ سے جھگڑے کے بعد اپنے بھائی کو کہتا ہے کہ تم میری جگہ جا کر سو جاؤ، کمرے میں کبھی بیٹھے بیٹھےاپنے آپ کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے، ایک دفعہ رات کو سوتے ہوئے مجھے تھپڑ دے مارا میرا منہ تو کئی بار نوچا مجھے ڈراتا ہے پھر مجھ سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے ڈرتی کیوں ہو؟ کئی مرتبہ میرے پیر پکڑ کر معافی مانگتا ہے پھر کچھ دن بعد دوبارہ وہی حرکتیں شروع کرتا ہے، طلاق کی دھمکیاں دیتا ہے، مفتی صاحب جب سے میرا نکاح ہوا میری زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ میں اس وقت اپنے والدین کے گھر میں ہوں۔ آپ مجھے شریعت کی روشنی میں بتائیں میں کیا کروں ؟ جب سے اس نے یہ جملہ کہا کہ کاش میں ہندو کے گھر پیدا ہوتا، تب سے مجھے سکون نہیں مل رہا، آیا یہ شخص مسلمان بھی باقی رہا یا نہیں؟ اس سے نکاح بھی برقرار رہا یا نہیں برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں مجھے اس مسئلے کا حل بتائیں میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں گی۔
نوٹ :۔ شوہر دار الافتاء حاضر ہوا اور اس نے بیوی کے مذکورہ بالا تمام الزامات کو رد کیا اور کہا کہ یہ مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں۔ البتہ میں نے طلاق کی دھمکی دی تھی ۔
سائلہ نے اپنے شوہر پر کفریہ کلمات کہنے کا جو دعوی کیا ہے اس کے ثبوت کے لئے سائلہ کے پاس کوئی شرعی شہادت موجود نہیں، جبکہ شوہر سائلہ کے مذکور دعوی سے انکاری ہے ۔ اس لئے سائلہ کے محض دعوی کرنے سے اس کے شوہر کا کفر ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ایمان اور نکاح بدستور برقرار ہیں، اس لئے وہ دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم شکوک و شبہات سے بچنے کے لئے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
كما في الدر المختار: (شهدوا على مسلم بالردة وهو منكر لا يتعرض له) لا لتكذيب الشهود العدول بل (لأن إنكاره توبة ورجوع) (4/ 246)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وقوله احتياطا أي يأمره المفتي بالتجديد ليكون وطؤه حلالا باتفاق، وظاهره أنه لا يحكم القاضي بالفرقة بينهما اھ (4/ 247)
وفي الدر المختار: (أخبرت بارتداد زوجها فلها التزوج بآخر بعد العدة) استحسانا (كما في الإخبار) من ثقة (بموته أو تطليقه) ثلاثا اھ (4/ 252)۔
وفي حاشية ابن عابدين: ثم لا يخفى أنه إذا ظهرت حياته أو أنكر الطلاق أو الردة ولم تقم عليه بينة شرعية ينفسخ النكاح الثاني وتعود إليه اھ (4/ 253)۔
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0