السلام علیکم ! مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ایک ایسا گروپ جس کے بارے میں مشہور ہو کہ وہ قادیانی ہیں (شیزان کمپنی ) کے ساتھ کا روبار کیا جا سکتا ہے ، اگر کوئی مسلمان کاروبار کرے تو کوئی گناہ تو نہیں ہو گا ؟مہربانی کر کے مجھے فتوی ارسال کریں۔
واضح ہو کہ عام کفار کے ساتھ خرید فروخت اور دیگر معاملات کرنے کے بارے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ ضرورت کے وقت ان سے تجارتی معاملات کر سکتے ہیں ،لیکن جب کوئی دوسری صورت ممکن ہو مثلاً مسلمان تاجر سے معاملہ کیا جا سکتا ہو، تو پھر کفار سے معاملہ نہیں کرنا چاہیئے، یہ تو عام کفار کا حکم ہے، اور قادیانی چونکہ مرتد اور زندیق ہیں ،اس لیے دیگر کفار کے مقابلے میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہ زیادہ خطرناک ہیں ،اس لیے ان کے ساتھ معاملہ کرنے سے اور زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے، نیز ان کے ساتھ تجارتی معاملہ کرنا غیرتِ ایمانی کے بھی خلاف ہے ، لہذا ان مفاسد کی وجہ سے قادیانیوں کی کسی بھی کمپنی کے ساتھ حتی الامکان تجارتی معاملات اور خرید و فروخت سے مکمل احتراز کرنا چاہیئے، خصوصاً اس وقت جبکہ مسلمانوں کے ساتھ یہ معاملات کیے جا سکتے ہوں ۔