جناب ِعالی ! میری اور میرے بھائی کی شادی وٹے سٹے کی صورت میں ہوئی تھی، میری ایک ہی نند تھی جو کہ میری بھا بھی ہوئی تھی ، اکلوتی ہونے کی وجہ سے میرے سسرال میں اس کی مرضی چلتی تھی، شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش تھی، جبکہ میری نند پتہ نہیں کیوں مجھ سے خوش نہ تھی، میرے بھائی نے اسے بہت خوش رکھا تھا، اور گھر میں بھی اسے کوئی تکلیف نہ تھی، اس کے باوجود وہ جب اپنے میکے جاتی تو خاص کر کے میرے بھائی کے خلاف باتیں شروع کر دیتی، آہستہ آہستہ میری ساس اور خاص کرکے شوہر کا رویہ مجھ سے برا ہوتا گیا، میری ساس مجھے باتیں بناتی اور میرے شوہر بھی میرے بھائی کو برا بھلا کہتے اور بغیر کسی وجہ کے مجھ سے ناراض ہو جاتے، ان حالات نے مجھے کافی پریشان کر دیا تھا ،میں اپنے شوہر کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی ،لیکن میری ساس نے شادی کے دو مہینے کے بعد مجھے طلاق کی دھمکی دینا شروع کر دی تھی، وہ میرے شوہر کو بھی اکسایا کرتی تھی، لیکن وہ ایسا بالکل بھی نہیں چاہتے تھے ،ایک سال میں حالات بہت زیادہ سنگین ہو گئے، ان دنوں میرے بھائی کے گھر بیٹی ہوئی تھی، اور میں حاملہ تھی کہ معاملہ ایسا خراب ہوا کہ میری نند اپنے میکے چلی گئی، اور میں اپنے میکے آگئی، پھر اللہ نے مجھے ایک بیٹی سے نوازا ، شوہر کو فون کر کے بتایا ،لیکن سسرال سے کوئی دیکھنے نہ آیا، شوہر بھی نہیں اس طرح پانچ سال کا طویل عرصہ گزر گیا، میری ساس اس عرصہ میں ہر جگہ گئی کہ کسی طرح بیٹی کا خلع لے کر مجھے بھی طلاق بھیج دیں، میرے سسرال میں میرے سسر اور شوہر کا نہیں چلتا تھا،ساس جو کہتی وہی ہوتا تھا ،میرے شوہر اس معاملہ میں کچھ نہیں کر سکتے تھے، لیکن وہ مجھے چھوڑنا بھی نہ چاہتے تھے ،لیکن وہ مجھے بہت چاہتے تھے ،لیکن بہن کی وجہ سے خاموش تھے۔پانچ سال کے بعد شوہر اور بھائی کی کوشش سے صلح ہوئی، اور معاملہ الگ گھر لے کر رہنے پر طے ہوا، میں اور میرے شوہر بہت خوش تھے اور میرا بھائی بھی بہت خوش تھا، جبکہ میری نند بالکل خوش نہ تھی ،میرے بھائی نے اسے ہر طرح کی آسائش دی ،اور کسی قسم کی پابندی نہ لگائی، اس کے باوجود وہ پھر پندرہ دن میں اپنی امی کے گھر جاتی، اور شوہر کی تعریف کرنے کے بجائے الٹی شکایتیں شروع کر دیتی، میرے بھائی نے کئی بار اس کی باتوں کو جھوٹا بھی ثابت کیا ،اور میرے شوہر نے بھی اسے ڈانٹا، لیکن وہ باز نہ آئی آخر میں اس نے اپنی باتوں سے میری ساس اور میرے شوہر کے دل میں میرے بھائی کے خلاف نفرت پیدا کر دی ،میرے شوہر ان حالات سے تھک چکے تھے۔ اب ان کے دل میں بھی میرے بھائی کے لئے نفرت ہو چکی تھی، اور بجائے اپنی بہن کو سمجھانے کے وہ مجھے کہتے اور دباؤ ڈالتے کہ میں اپنے بھائی کو ایسا کہوں اور ویسا کہوں، مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں ، آخر کار دس مہینوں میں اس نفرت کی آگ نے میرے گھر کو بھی اپنے حصار میں لیے لیا ،ادھر میرا بھائی بھی اپنی بیوی کو رکھنے پر تیار نہ تھا، میرے ساس دونوں کا گھر اجاڑنا چاہتی تھی، آخر کار میرے نند نے کورٹ سے خلع لے لیا ،اور میرے شوہر مجھے طلاق دینے پر راضی نہ تھے ،لیکن ماں اور بہن کی وجہ سے وہ مجبور ہو گئے اور ایک مہینے کے بعد انہوں نے مجھے طلاق دے دی۔
اب معاملہ دو معصوم بچیوں کا ہے، دونوں اپنے اپنے رشتوں سے جدا ہو چکی ہیں، اس معاملہ کو چھ سال کا عرصہ ہو چکا ہے، میری نند کی شادی ہو چکی ہے۔ میرے شوہر نے ابھی تک شادی نہیں کی اور نہ میں نے شادی کی ہے، میری بھتیجی اپنی نانی کے پاس رہتی ہے اور میں اور میری بیٹی اپنی امی کے گھر رہتے ہیں ،اتنے عرصہ میں دونوں بچیوں کا اپنی اپنی دادی کے گھر آنا جانا بند ہے اور میرے شوہر نے ابھی تک اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا ،اور میرے بھائی کام کے سلسلے میں باہر ملک رہتے ہیں، اس لئے انہوں نے بھی اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا ۔
اب میں چاہتی ہوں کہ دونوں بچیوں کا اپنے خونی رشتوں سے ملاپ ہو جائے ،اور دونوں بچیاں اپنے دادھیال آجا سکے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ شریعت کے رو سے بتائیں کہ یہ معاملہ کسی طرح سمجھایا جا سکتا ہے، کیونکہ میری ساس بہت تیز عورت ہے وہ بالکل نہیں چاہیں گی کہ دونوں بچیاں اپنے باپ سے ملیں، آپ ہی ہماری راہ نمائی کریں ۔ فقط والسلام۔
چھوٹے معصوم بچوں کو ان کے والدین یا خونی رشتہ داروں سے ملنے پر پابندی لگانا سخت گناہ اور قطعِ رحمی ہے، جو کسی صورت جائز نہیں، اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو اس صورت میں اس کی نند اور ساس اپنے مذکور نا جائز طرزِ عمل کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئی ہیں، اور اس طرح شوہر کی مرضی کے خلاف کورٹ سے لی ہوئی خلع بھی شرعاً قابل قبول نہ ہونے کی وجہ سے یہ نکاح بھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ باقی رہتا ہے ،اور ایسی صورت میں دوسرا نکاح بھی منعقد نہیں ہو سکتا،بہر کیف سائلہ کی ساس اور نند و غیرہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے اس نا جائز طرزِ عمل سے باز آجائیں اور معصوم بچیوں کواپنے اپنے والدین اور ددھیال سے ملنے کا موقع دیں ،اور اب تک اس سلسلہ میں جو گناہ ہوا، اس پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ واستغفار کریں اور آئندہ اس طرح کے افعال سے مکمل اجتناب کریں۔
کمافى مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الرحم شجنة من الرحمن. فقال الله: من وصلك وصلته ومن قطعك قطعته ". رواه البخاري اھ(3/ 1377)۔
و في الفتاوى الهندية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية اھ (1/ 543)۔
و في أحكام القرآن : قال أصحابنا انهما لا يجوز خلعهما إلا بتراضى الزوجين ( إلى قوله) وكيف تجوز الحكمين أن يخالعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها (۲/ ۲۹۱)۔