مکروہات

مسجد کے قبلہ کو 45 ڈگری تک منحرف کرنا

فتوی نمبر :
83916
| تاریخ :
2025-07-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مکروہات

مسجد کے قبلہ کو 45 ڈگری تک منحرف کرنا

ہم نے مسجد کے لیے پلاٹ وقف کیا ہے۔نقشہ بنانے والے نے قطب نما پر قبلہ کی سمت معلوم کرکے نشانہ لگا یا۔ اگر قطب نما کے مطابق ہم مسجد کا نقشہ تیار کرتے ہیں تو اس سے مسجد کا پلاٹ خراب ہو جاتا ہے۔کیا اس میں تھوڑی گنجائش ہے کہ ہم کچھ زاویوں کو کم یا زیادہ کر کے یعنی سمت کعبہ میں تبدیلی کر سکتے ہیں ۔تا کہ مسجد کا پلاٹ خراب ہو نے سے بچ جائے۔اگر گنجائش موجود ہیں تو کتنے ڈگری؟شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ جو شخص کعبۃ اللہ کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو اس کیلئے عین قبلہ کی طرف رخ کرنا لازم ہے،جبکہ اسکے علاوہ دور دراز علاقوں میں نماز پڑھنے والے افراد کیلئے عین کعبہ کے بجائے جہت کعبہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے،البتہ اگر دور رہنے والا شخص کعبہ کی سمت سے شمالا یا جنوبامعمولی انحراف (45 پینتالیس ڈگری کے اندر اندر)کے ساتھ نماز ادا کرلیتا ہے تو فقہاء کرام نے اس کی نماز درست قرار دی ہے،لیکن قبلہ رخ متعین ہونے کے باوجود اس سے انحراف کرنا درست نہیں،لہذا صورت مسئولہ میں مسجد کے ڈیزائن کی خوبصورتی کی خاطر مسجد میں صفوں کی ترتیب جدید آلات کے ذریعہ متعین کردہ جہت سے منحرف رکھنا (اگرچہ پنتالیس درجہ کے اندر کیوں نہ ہو )شرعا درست نہیں،بلکہ استقبال قبلہ کے مطلوبہ حکم سے اعراض اور مسلمانوں میں انتشار کا سسب ہے،اس لئے اس طرز عمل سے اجتناب ضروری ہے،جبکہ مسجد کے پلاٹ کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے پورے پلاٹ کو مسجد میں شامل کرکے اسے ڈیزائن کیا جاسکتاہے،لیکن صفوں کی ترتیب بہرحال مستند ذرائع سے متعین کردہ جہت پر بنانا ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی :قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ (البقرة: 144)
و قال ایضا: وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ(البقرة: الآية 150)
وفی تفسیر ابن کثیر: وقوله: ﴿وحيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطره﴾. أمر تعالى باستقبال الكعبة من جميع جهات الأرض: شرقا، وغربا، وشمالا، وجنوبها، ولا يستثنى من هذا شيء سوى














النافلة في حال السفر، فإنه يصليها حيثما توجه قالبه وقلبه نحو الكعبة، وكذا في حال المسايفة في القتال يصلي على كل حال، وكذا من جهل جهة القبلة يصلي باجتهاده، وإن كان مخطئا في نفس الأمر؛ لأن الله تعالى لا يكلف نفسا إلا وسعها.(،ج:2 ،ص:119،الناشر: (مؤسسة قرطبة، مكتبة أولاد الشيخ)، الجيزة - مصر)
وفی فتح القدیر: في التجنیس: هذا یشیر إلی أن من کان بمعاینتہ الکعبۃ، فالشرط إصابۃ عینها، ومن لم یکن بمعاینتها، فالشرط إصابۃ جهتها، وهو المختار۔ ( باب شروط الصلوۃ التي تتقدمہا، 1/ 236-235، 1/ 276-272۔ط:زکریا)
وفی رد :قد علمت أنه لو فرض شخص مستقبلا من بلده لعين الكعبة حقيقة ، بأن يفرض الخط الخارج من جبينه واقعا على عين الكعبة فهذا مسامت لها تحقيقا ، ولو أنه انتقل إلى جهة يمينه أو شماله بفراسخ كثيرة وفرضنا خطا مارا على الكعبة من المشرق إلى المغرب وكان الخط الخارج من جبين المصلي يصل على استقامة إلى هذا الخط المار على الكعبة فإنه بهذا الانتقال لا تزول المقابلة بالكلية لأن وجه الإنسان مقوس ، فمهما تأخر يمينا أو يسارا عن عين الكعبة يبقى شيء من جوانب وجهه مقابلا لها ، ولا شك أن هذا عند زيادة البعد ؛ أما عند القرب فلا يعتبر كما مر ؛ فقول الشارح هذا معنى التيامن والتياسر : أي أن ما ذكره من قوله بأن يبقى شيء من سطح الوجه إلخ مع فرض الخط على الوجه الذي قررناه هو المراد بما في الدرر عن الظهيرية من التيامن والتياسر : أي ليس المراد منه أن يجعل عن يمينه أو يساره ، إذ لا شك حينئذ في خروجه عن الجهة بالكلية ، بل المفهوم مما قدمناه عن المعراج والدرر من التقييد بحصول زاويتين قائمتين عند انتقال المستقبل لعين الكعبة يمينا أو يسارا أنه لا يصح لو كانت إحداهما حادة والأخرى منفرجة بهذه الصورة : والحاصل أن المراد بالتيامن والتياسر الانتقال عن عين الكعبة إلى جهة اليمين أو اليسار لا الانحراف ، لكن وقع في كلامهم ما يدل على أن الانحراف لا يضر ؛ ففي القهستاني : ولا بأس بالانحراف انحرافا لا تزول به المقابلة بالكلية ، بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة .ا هـ .وقال في شرح زاد الفقير : وفي بعض الكتب المعتمدة في استقبال القبلة إلى الجهة أقاويل كثيرة وأقربها إلى الصواب قولان : الأول أن ينظر في مغرب الصيف في أطول أيامه ومغرب الشتاء في أقصر أيامه فليدع الثلثين في الجانب الأيمن والثلث في الأيسر والقبلة عند ذلك ، ولو لم يفعل هكذا وصلى فيما بين المغربين يجوز ، وإذا وقع خارجا منها لا يجوز بالاتفاق ا هـ ملخصا .وفي منية المصلي عن أمالي الفتاوى : حد القبلة في بلادنا يعني سمرقند : ما بين المغربين مغرب الشتاء ومغرب الصيف ، فإن صلى إلى جهة خرجت من المغربين فسدت صلاته ا هـ وسيأتي في المتن في مفسدات الصلاة أنها تفسد بتحويل صدره عن القبلة بغير عذر ، فعلم أن الانحراف اليسير لا يضر ، وهو الذي يبقى معه الوجه أو شيء من جوانبه مسامتا لعين الكعبة أو لهوائها ، بأن يخرج الخط من الوجه أو من بعض جوانبه ويمر على الكعبة أو هوائها مستقيما ، ولا يلزم أن يكون الخط الخارج على استقامة خارجا من جبهة المصلي بل منها أو من جوانبها كما دل عليه قول الدرر من جبين المصلي ، فإن الجبين طرف الجبهة وهما جبينان ، وعلى ما قررناه يحمل ما في الفتح والبحر عن الفتاوى من أن الانحراف المفسد أن يجاوز المشارق إلى المغارب ا هـ فهذا غاية ما ظهر لي في هذا المحل ، والله تعالى أعلم. (کتاب الصلوۃ ۔ج 3 / ص 335)

سوال:ہمارے یہاں گورنمنٹ نے ایک احآطہ مسجد کیلئے وقف یا تھا جو قبلہ رو نہیں،لیکن اس میں ربع دائرہ سے بہت کم یعنی بقدر 6/1 حصہ دائرہ کے فرق ہوسکتا ہے،کیا وہاں مسجد بنادی جائے ، کیونکہ قبلہ رو کرنے میں ٹکڑے کاٹ دینے سے پلاٹ آدھا رہ جاتاہے، اگر اس طرح مسجد بنانے میں اعتراض نہ ہو تو مسجد بہت کشادہ ہوسکتی ہے،اور ضرورت کی سب چیزیں بن سکتی ہیں۔
جواب:اوپر کی گنجائش بنی ہوئی مساجد کے لیے مذکورہوئی ہے ،تاکہ جمہورمسلمین کا تخطیہ لازم نہ آئے لیکن قصداً مسجد منحرف بناناجس میں مفسدہ مذکورہ یعنی تخطیہ سے زیادہ مفاسدہیں جیسے افتراق بین المسلمین واطالتِ لسان معترضین وجسارت عوام علی الخروج عن الحدودواستخفاف حدود وامثالھاخلاف مصلحت ہے نظیرہ مامر من عدم اعتبارالنجوم فی المساجد القدیمۃ وفی اعتبارھافی المفاوز،ان مفاسد کے مقابلہ میں رقبہ کا کم ہونا اھون ہے‘‘(امداد الفتاوی:1/513،ط:زکریا بک ڈپو انڈیا )
حضرت مولانامفتی محمود حسن گنکوہی ؒ فرماتے ہیں:
’’دیدہ دانستہ انحراف کے ساتھ (مسجدکی)تعمیر ہرگزنہ کی جائے ،ہوسکتاہے کہ ابتداءً سابقہ مسجد بنانے کے لیے پورالحاظِ قبلہ کا نہ ہوسکاہو ،کوئی ذریعہ علم کا نہ ہو،اب صحیح علم کا ذریعہ موجود ہے، دیگرمساجد کوبھی دیکھ لیاجائے ،قطب نماسے بھی اندازہ کرلیاجائے تب تعمیر کی جائے‘‘(فتاوی محمودیۃ: ج:21،ص:267،ط:جامعہ محمودیہ علی پور میرٹھ یوپی ،انڈیا)
حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب لکھتے ہیں :
قصداًباوجود علم کے نودس درجے کے انحراف کو نظر انداز کردینا اورغلط سمت پر نماز پڑھنامسلمانوں کے قلوب میں خطرات ووساوس پیداکرنے کا موجب ہوگا،اس لیے مسجد میں صحیح سمت کےنشان قائم کرکے ہی نماز ادا کرنی چاہئیں (کفایۃ المفتی 3:/175،ط:دارالاشاعۃ کراچی)
نیزفرماتے ہیں :
قدرے انحراف کرکے رخ بالکل سیدھا کرلیں تو خلفشارنہ رہے اورسب کو سکون حاصل ہوجائے۔(کفایۃ المفتی مذکورہ:5/535، ط:دارالاشاعۃ کراچی)
نیزفرماتے ہیں :
’’قصداًغلط سمت پرنماز ادا کرنا مکروہ ہے ان دونوں کو نمبر۲کی طرح درست کرلینا چاہیے یا جنازہ رکھنے اورصفیں قائم کرنے میں جہت نمبر۲کے موافق انحرف کرلیناچاہئے (کفایۃ المفتی :3/175، ط:دارالاشاعۃ کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83916کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کھڑے ہوکر وضو اور پیشاب کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • مرد کے لئے اپنے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • اجرت پرھوم ورک اوراسائنمنٹ تیارکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 2
  • سینے سے بال صاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • کیا ذی الحجہ کے دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنا حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • مرد کا بھنویں اکھاڑنے اور اس پر پکا کلر کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کم عمربچوں سے اشعارپڑھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • آن لائن فوڈ ایپ کے واؤچر کا غلط استعمال

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا-زیر ناف بال کاٹنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • بینک ملازم کے لڑکے کو بیٹی کا رشتہ دینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • کافر کا جوٹھا استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مونچھ مونڈھنا-زیرِ ناف صفائی کے لۓ کریم - پاؤڈر کا استعمال

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • چیس گیم کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء مخصوصہ کو چومنے اورچاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پیچ شدہ موبائل خریدنے اور خود موبائل پیچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے ہجرت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • پینے کیلئے رکھے ہوئے پانی سے ہاتھ دھونا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • تبلیغ میں جانے کے لئے جھوٹ بول کر چھٹی لینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مشغلہ اور کھیل کے طور پر شکار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میت کے گھر میں تین دن تک کھانا کھانا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • لوگوں کے سامنے اپنی بزرگی بیان کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مرحوم والد صاحب کی تصویریں شیئر کرتے رہنا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • عورت کا باپردہ ہو کر اپنی آواز میں, یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیو اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   مکروہات 2
  • پب جی گیم کھیلنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
Related Topics متعلقه موضوعات