السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ سے موجودہ دور میں ایک نئی ٹیکنالوجی یعنی Artificial Intelligence (AI) کے حوالے سے ایک اہم شرعی سوال پوچھنا چاہتا ہوں،
آج کل AI کے ذریعے ویڈیوز بنانا، آوازیں بدلنا، اور مشہور شخصیات کو بچوں، جانوروں یا کسی اور شکل میں تبدیل کرنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ مثلاً:بعض لوگ مشہور شخصیات (جیسے عالم دین، سیاستدان یا اداکار) کے چہروں کو AI کے ذریعے بچوں (Kids) میں تبدیل کر دیتے ہیں، اور ان پر فرضی آوازیں یا الفاظ بھی شامل کرتے ہیں،
یوٹیوب پر Monkey Vlogs جیسے چینلز موجود ہیں جہاں بندر یا دیگر جانوروں کی ویڈیوز کو انسانوں جیسا دکھایا جاتا ہے، اور ان میں انسانی جذبات اور بات چیت شامل کر کے ایک کہانی بنائی جاتی ہے،
میں نے خود ایک عالمِ دین کو یوٹیوب پر یہ کہتے سنا کہ اگر کوئی AI سے کہے کہ میرے لیے فلاں شخصیت کی آواز یا انداز میں ویڈیو بنا دو، تو یہ "مصوری کی جدید شکل" ہے، اور یہ حرام ہو سکتی ہے،
ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے کچھ سوالات ہیں:
1. کیا AI سے اس قسم کی ویڈیوز بنانا، جہاں فرضی چہرے، آوازیں یا جذبات شامل کیے جائیں، شرعی طور پر جائز ہے یا ناجائز؟
2. اگر ان ویڈیوز میں مشہور شخصیت کی نقل (voice cloning، face animation) کی جائے، تو کیا یہ جھوٹ یا فریب کے زمرے میں آئے گا؟
3. کیا ایسے مواد سے یوٹیوب یا دیگر پلیٹ فارمز پر کمائی کرنا حلال ہو گا یا حرام؟
4. اگر نیت صرف تفریح یا مزاح ہو، تب بھی کیا یہ ویڈیوز بنانا اور ان سے آمدنی لینا جائز ہے؟
5. کیا یہ سب کچھ تصویر سازی یا "مصوری" کے جدید طریقے میں شمار ہوتا ہے جس پر احادیث میں سخت وعید آئی ہے؟
میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میں اس میدان میں کام کرتے ہوئے اسلامی اصولوں کے دائرے میں رہوں اور میری کمائی پاک اور حلال ہو۔ براہِ کرم اس مسئلے پر تفصیلی شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہوکہ A-I (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے ذریعہ بنائی گئی تصویر ڈیجیٹل عکس بندی کے زمرے میں ہی آتی ہے، اس لئے جن ذی روح اشیاء کو خارج میں دیکھنے کی اجازت ہے، معاصر علماءِ کرام کے ایک معتد بہ طبقہ کے نزدیک ان اشیاء کی ڈیجیٹل تصویر و عکس بندی کی بھی درج ذیل شرائط کے ساتھ شرعاً گنجائش ہے،
1) ان ویڈیوز میں اسلامی تعلیمات اور مقدّسات شرعیہ کے خلاف کوئی چیز نہ ہو،
2) میوزک اور موسیقی نہ ہو،
3) عورتوں کی تصاویر نہ ہوں،
جبکہ مشہور شخصیات کی AI نقالی، آواز یا چہرے کی جھوٹی تخلیق خواہ تفریح ومزاح کے نام پریہی ہو، سراسر دھوکہ اور جھوٹ ہے،لہذااس نوع کی جھوٹی ویڈیوز بنانا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے ، اورایسے فریب پر مبنی مواد سے کمائی بھی حرام و سخت ممنوع ہے۔جس سے بہرصورت احترازلازم ہے۔ البتہ عام فرضی AI ویڈیوز جس میں کسی حقیقی شخص کی جھوٹی نقالی، آواز یا شکل استعمال نہ کی جائے، اور کسی قسم کےدھوکہ دہی وفریب کاپہلویا ناجائز وحرام چیزوں کی عکس بندی ومناظردکھانے کاپہلوبھی نمایاں نہ ہوتاہو ، "محض کارٹون/اینیمیشن" کے مشابہ بغرض اصلاح وتعلیم ویڈیوبنائی جائیں تو اس کی گنجائش ہوگی ۔
تاہم ایسے مواد سے یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارم پر کمائی کرنے کا جواز اس بات پر موقوف ہےکہ ان ویڈیوز کے غیر شرعی امور سے پاک ہونے کے ساتھ ان ویڈیوز کو اپلوڈکرنے کے بعد ان پر کوئی ایسی تشہیری (ایڈ) نہ چلائی جائےجو غیر شرعی امور پر مشتمل ہو ،مثلاً اس کے ذریعے کسی حرام پراڈکٹ یا ناجائز عمل کی تشہیر ہوتی ہویا وہ پراڈکٹ ہوں تو حلال، لیکن اس کی تشہیر میں کسی میوزک یا عورت کی تصاویر استعمال کی گئی ہوں تو ایسی صورت میں ان اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ کمائ ناجائز اور حرام ہوگی اور اس کو اپنے استعمال میں لانا بھی درست نہیں، لہذا یوٹیوب یا دیگر سوشل پہیٹ فارمز پر ویڈیوز اپلوڈ کرکے کمائی کرنے سے پہلے ان ممکنہ شرعی خرابیوں سے بچنے کےلیے" ایڈز ریویو سینٹر " کے ذریعے تفصیلات معلوم کر کے غیر شرعی اشتہارات کو اپنی ویڈیوز پر بند کروانے کا اہتمام کرنا لازم وضروری ہے،بصورت دیگر ویڈیوز اپلوڈ کرکے اشتہارات کے ذریعے کمائی کرنے سے احتراز چاہیئے۔
کمافی احکام القرآن للجصاص: تحت قوله تعالى (يا أيها الذين آمنوا لا يسخر قوم من قوم) نهى الله بهذه الآية عن عيب من لا يستحق أن يعاب على وجه الاحتقار له لأن ذلك هو معنى السخرية وأخبر أنه وإن كان أرفع حالا منه في الدنيا فنسي أن يكون المسخور منه خيرا عند الله الخ(سورۃ الحجرات، الایۃ 11،ج 3،ص404، ط:سہیل اکیڈمی)۔
وفی الصحیح لمسلم: قال حدثنی یحییٰ بن یحیی قال قرأت علی مالک عن نافعٍ عن القاسم بن محمد عن عائشۃؓ أنھا اشترت نمرقۃ فیھا تصاویر ( الی قولہ) فقال لھم : احیوا ما خلقتم ثم قال "ان البیت الذی فیہ الصور لاتدخلہ الملائکۃ الخ
و فی حاشیتہ : وھذہ الاحادیث صریحۃ فی تحریم تصویر الحیوان، و انہ غلیظ التحریم، و اما الشجر و نحوہ مما لا روح فیہ فلا یحرم صنعتہ، و لا التکسب بہ، الخ (کتاب اللباس، ح: 5531، ج2، ص 1117، ط: مکتبۃ البشریٰ)-
و فی تکملۃ فتح الملھم : أما التلفزیون والفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھما بالنظر إلی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ من الخلاعۃ والمجون والکشف عن النساء المتبرجات أو العادیات و ما إلی ذلک من أسباب الفسوق ، ولکن ھل تأتی فی حکم التصویر بحیث إذا کان التلفزیون أو الفدیو خالیاً من ھذہ المنکرات باسرھا، ھل یحرم بالنظر إلی کونہ تصویراً ؟ فإن لھذا العبد الضعیف – عفا اللہ عنہ – فی وقفۃ ؛ و ذلک لأن الصورۃ المحرمۃ ما کانت مفترشۃ أو منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیئ ، و ھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادۃ ،أما الصورۃ التی لیس لھا ثبات أو استقرار و لیس مفترشۃ علی شیء بصفۃ دائمۃ فإنھا بالظل أشبہ منھا بالصورۃ ، ویبدو أن الصورۃ التلفزیون والفدیو لاتستقر علی شیء فی مرحلۃ من المراحل إلخ ( ج4، ص 162، ط دار العلوم کراتشی )-
وفی فقہ البیوع: ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لا يخلو من محظور شرعي، و عامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة، و إن كان هناك من لا يقصد به ذلك. فبما أن استعماله في مباح ممكن، فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقا، إلا إذا تعين بيعه لمحظور، ولكن نظرا إلى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية. وعلى هذا، فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة في الحالة الراهنة، إلا إذا هيأ الله سبحانه جوا يتمحض أو يكثر فيه استعماله المباح الخ(المبحث الثالث،الشرط الثانی کون المبیع متقوما،ج1،ص325،ط: مکتبۃ ادارۃ المعارف کراچی)۔