جناب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں نے ایک ہوٹل میں دکان کی جگہ خریدی ہے ، ہوٹل زیر تعمیر ہے۔ ہوٹل کی انتظامیہ تعمیر مکمل ہونے تک دکان کا ماہانہ کرایہ ادا کرے گی۔ ہوٹل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہوٹل مینیجمنٹ دکانوں یا کمروں کی قیمت کے حساب سے ماہانہ کرایہ ادا کرے گا جسے ماہانہ بنیادوں پر بڑھایا یا کم کیا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہوٹل کی تکمیل کے بعد ہمیں اپنی سرمایہ کاری کا کرایہ ملےگا جو فکس نہیں ہوگا، لیکن تعمیر سے پہلے کرایہ طے ہوتاہے ، لہذا مقررہ کرایہ " سود " ہے ؟ جبکہ سرمایہ کاری کے وقت عمارت زیر تعمیر ہے۔
ہوٹل کی تعمیر مکمل ہونےپہلے محض نقشہ وغیر ہ دیکھ کر اس میں دکان کے لئے جگہ کی خریداری کا معاملہ کرنا " بیع استصناع " کے حکم میں ہو کر جائز ہے، لیکن جب تک ہوٹل کی مکمل تعمیر نہ ہو اور سائل کو اس کی دکان حوالہ نہ کی جائے اس سے پہلے اس دکان کا کرایہ وصول کرنا جائز نہیں البتہ ہوٹل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد جب سائل کو اس کی دکان حوالہ کی جائے تو اس کے بعد دکان کا کرایہ متعین کر کے وصول کر سکتا ہے۔
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قوله (وصح السلم والاستصناع في نحو خف وطست) أما السلم فلإمكان ضبط الصفة ومعرفة المقدار فكان سلما باستجماع شرائطه، وأما الاستصناع فالكلام فيه في مواضع الأول في معناه لغة فهو طلب الصنعة وفي القاموس الصناعة ككتابة حرفة الصانع وعمله الصنعة. اهـ. فعلى هذا الاستصناع لغة طلب عمل الصانع وشرعا أن يقول لصاحب خف أو مكعب أو صفار اصنع لي خفا طوله كذا وسعته كذا أو دستا أي برمة تسع كذا ووزنها كذا على هيئة كذا بكذا وكذا ويعطي الثمن المسمى أو لا يعطي شيئا فيقبل الآخر منه اھ (6/ 185)۔
و في الدر المختار: وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء اھ (6/ 4)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قال في المنح: وهو أولى بالقبول، من قولهم تمليك نفع معلوم بعوض كذلك،؛ لأنه إن كان تعريفا للإجارة الصحيحة لم يكن مانعا لتناوله الفاسدة بالشرط الفاسد وبالشيوع الأصلي، وإن كان تعريفا للأعم لم يكن تقييد النفع والعوض بالمعلوم صحيحا، وما اختير في هذا المختصر تبعا للدرر تعريفا للأعم اهـ وفيه نظر،؛ لأن التي عرفها أئمة المذهب الإجارة الشرعية وهي الصحيحة والفاسدة ضدها فلا يشملها التعريف: قال في المبسوط: لا بد من إعلام ما يرد عليه عقد الإجارة على وجه ينقطع به المنازعة ببيان المدة والمسافة والعمل، ولا بد من إعلام البدل اهـ، وإلا كان العقد عبثا كما في البدائع، على أنه تمليك بعوض غير معلوم فعاد إلى كلامهم، وتمامه في الشرنبلالية اھ (6/ 4)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0