السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!
سر! میرا نام زید ہے، میں انڈیا، بجنور سے ہوں۔میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ ہم لوگ سعودی میں ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ یہاں کمپنی نے سب کو گاڑی دی ہوئی ہے۔ کچھ لوگ اسے اپنے پارٹ ٹائم کے لئے استعمال کرتے ہیں، اور ٹول بھی جو کمپنی نے دئیے ہیں، (وہ بھی استعمال کرتے ہیں)۔ اس بارے میں کمپنی کے مینیجر جانتے ہیں، وہ نہ کبھی اجازت دیتے ہیں، نہ کبھی منع کرتے ہیں۔کیا یہ پیسہ جائز ہوگا؟ اور اس پیسے سے دی گئی پارٹی جیسے لنچ یا ڈنر، جائز ہوگا؟
واضح رہے کہ کسی بھی کمپنی کی طرف سے دی گئی گاڑی یا سہولیات وغیرہ کے استعمال کے احکام کا تعلق اس کمپنی کی طرف سے طے کردہ ضابطے کے ساتھ ہے ۔ لہٰذا سائل کی کمپنی کی طرف سے دی گئی گاڑی اور کام کے اوزار جن ضوابط کے ساتھ اور جن شرائط و حدود کے ساتھ ملازمین کو دیے گئے ہیں ان سے ہٹ کر ان کا استعمال کرنا یا دیگر مالی فوائد اور آمدنی حاصل کرنا جائز نہیں اور ایسی آمدنی حلال بھی نہ ہوگی بلکہ اس کو کمپنی میں جمع کرانا لازم ہوگا ۔اور اگر کسی شخص کی مکمل آمدنی یا اس کا اکثر حصہ حرام کا ہو ،تو اس کی دعوت یا ہدیہ وغیرہ قبول کرنا بھی جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے۔