سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو اس کی بد چلنی کی وجہ سے تین طلاق دے دی ہیں ، حضرت صاحب ہمارے تین بچے ہیں ، دو (2) بچے میرے پاس اور ایک بچہ میری بیوی کے پاس ہے، لڑ کا بارہ (12) سال کا اور لڑ کی دس (۱۰) سال کی، میرے پاس ہے ، ایک لڑ کا چار (4) سال کا میری بیوی کے پاس ہے، اور میری بیوی مجھ سے بچے مانگ رہی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں بچے کس کے پاس رہنے چاہیے؟
سائل کے جس بیٹے کی عمر بارہ (12) سال اور بیٹی کی عمر دس (10) سال تک پہنچ چکی ہے ، ان کو تو سائل اپنے پاس رکھ سکتا ہے ۔ بیوی کے لیے ان بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ، جبکہ جو بیٹا چار (4) سال کا ہے ،وہ سات (7) سال کی عمر تک اپنی والدہ کی پرورش میں رہے گا، بشر طیکہ اس دوران وہ بچے کے کسی غیر محرم سے نکاح نہ کرے ، اور دوران کفالت بچے کی پرورش پر آنے والے تمام اخر جات سائل کے ذمہ لازم ہونگے ، سات (7) سال پورا ہونے کے بعد سائل اگر اس بیٹے کو بھی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما وقت الحضانة التي من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتى يستغني عنهن فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده كذا ذكر في ظاهر الرواية، وذكر أبو داود بن رشيد عن محمد ويتوضأ وحده يريد به الاستنجاء أي ويستنجي وحده ولم يقدر في ذلك تقديرا وذكر الخصاف سبع سنين أو ثمان سنين أو نحو ذلك. وأما الجارية فهي أحق بها حتى تحيض كذا ذكر في ظاهر الرواية اھ (4/ 42)۔
و في الفتاوى الهندية: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض و في نوادر هشام عن محمد رحمه الله تعالى إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين اھ (1/ 542) والله اعلم بالصواب