آیات کی تفسیر و تشریح

ایک شخص کا بیت المقدس کی تعمیر پر قرآن مجید اور حضرت عمرؒ پر اعتراض

فتوی نمبر :
84548
| تاریخ :
2025-07-23
قرآن و حدیث / تفسیر و احکام القرآن / آیات کی تفسیر و تشریح

ایک شخص کا بیت المقدس کی تعمیر پر قرآن مجید اور حضرت عمرؒ پر اعتراض

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!
امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے یہ اعتراض کیا ہے:
"جب حضرت عمرؓ نے بیت المقدس فتح کیا تو وہاں ایک مسجد تعمیر کی، جسے 'مسجد اقصیٰ' کا نام دیا گیا۔ جبکہ قرآنِ کریم کے پندرہویں پارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے 'مسجد اقصیٰ' کا ذکر فرمایا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے، کیونکہ اُس وقت تو یہ نام تھا ہی نہیں! یہ تو تحریف ہے، جو حضرت عمر نے کی ہے۔"

براہ مہربانی، آپ اس بارے میں کچھ رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآنِ مجید میں مذکور "المسجد الأقصى" سے مراد صرف عمارت نہیں، بلکہ وہ مقدس مقام ہے جوروزاول سے ہی اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص رہا ہے، اور ہزاروں سال سے انبیاء کرام علیہم السلام وہاں عبادت کرتے آئے ہیں۔
حضرت عمرؓ نے جب 15 ہجری میں بیت المقدس فتح کیا تو وہاں پہلے سے موجود مسجد اقصیٰ کا مقام ویران حالت میں تھا، جسے آپؓ نے صاف کروا کر دوبارہ آباد کیا،یعنی حضرت عمرؓ نےنئی مسجد نہیں بنائی، بلکہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی و شرعی مقام کو دوبارہ زندہ کیا۔ ۔
لہٰذا قرآن مجید میں "المسجد الأقصى" کا ذکر نہ صرف تاریخی لحاظ سے درست ہے، بلکہ یہ ایک مقدس شرعی مقام کی طرف اشارہ ہے، جو اس وقت بھی اپنی اصل حیثیت میں موجود تھا، اگرچہ عمارت تباہ حال تھی۔قرآن کریم الحمد للہ محفوظ، مکمل، غیر محرف ہے، اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔
لہذا،مذکورشخص کایہ الزام قرآن، حدیث، تاریخ اور اجماعِ امت کے خلاف ہونے کے ساتھ باطل، فاسد العقیدہ، اور گمراہی پر مبنی اور محض فتنہ پروری ہے ۔ اس سے متاثر نہ ہواجائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی فی التنزیل : إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ [الحجر: 9]
«صحيح البخاري» (3/ 1260):
«عن أبي ذر رضي الله عنه قال:قلت: يا رسول الله، أي مسجد وضع أول؟ قال: (المسجد الحرام). قلت: ثم أي؟ قال: (ثم المسجد ‌الأقصى). قلت: كم كان بينهما؟ قال: (أربعون، ثم قال: حيثما أدركتك الصلاة فصل، والأرض لك مسجد).»
«فتح الباري» لابن حجر (6/ 409 ط السلفية):
«وقال الخطابي يشبه أن يكون المسجد الأقصى أول ما وضع بناءه بعض أولياء الله قبل داود وسليمان ثم داود وسليمان فزادا فيه ووسعاه فأضيف إليهما بناؤه قال وقد ينسب هذا المسجد إلى إيلياء فيحتمل أن يكون هو بانيه أو غيره ولست أحقق لم أضيف إليه قلت الاحتمال الذي ذكره أولا موجه وقد رأيت لغيره أن أول من أسس المسجد الأقصى آدم عليه السلام وقيل الملائكة وقيل سام بن نوح عليه السلام وقيل يعقوب عليه السلام فعلى الأولين يكون ما وقع ممن بعدهما تجديدا كما وقع في الكعبة وعلى الأخيرين يكون الواقع من إبراهيم أو يعقوب أصلا وتأسيسا ومن داود تجديدا لذلك وابتداء بناء فلم يكمل على يده حتى أكمله سليمان عليه السلام لكن الاحتمال الذي ذكره بن الجوزي أوجه وقد وجدت ما يشهد له ويؤيد قول من قال إن آدم هو الذي أسس كلا من المسجدين»
«البداية والنهاية» (7/ 58):
«فلما فتح عمر بيت المقدس وتحقق موضع الصخرة، أمر بإزالة ما عليها من الكناسة حتى قيل إنه كنسها بردائه، ثم استشار كعبا أين يضع المسجد؟ فأشار عليه بأن يجعله وراء الصخرة، فضرب في صدره وقال. يا ابن أم كعب ضارعت اليهود: وأمر ببنائه في مقدم بيت المقدس.
قال الإمام أحمد: حدثنا أسود بن عامر ثنا حماد بن سلمة عن أبي سنان عن عبيد بن آدم وأبي مريم وأبي شعيب أن عمر بن الخطاب كان بالجابية فذكر فتح بيت المقدس، قال قال ابن سلمة: فحدثني أبو سنان عن عبيد بن آدم سمعت عمر يقول لكعب: أين ترى أن أصلي؟ قال إن أخذت عني صليت خلف الصخرة وكانت القدس كلها بين يديك، فقال عمر ضاهيت اليهودية لا ولكن أصلي حيث صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتقدم إلى القبلة فصلى، ثم جاء فبسط رداءه وكنس الكناسة في ردائه وكنس الناس.»

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84548کی تصدیق کریں
0     103
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مافی الارحام کی تشریح

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ رحمٰن کی آیت نمبر 2 اور 3 میں کس قرآن کا ذکر ہے؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • تفسیرِ کا اہل کون ؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’قد جاءکم من اللہ نور ‘‘سے آپﷺ کونور سے ثابت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ الأنبیاء کی آیت نمبر ۱۰۴ اور ۱۰۵ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر درود بھیجنے کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • الٹراساؤنڈ کے ذریعہ بچہ کی جنس کا علم ہو جانا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • عذاب نازل شدہ مقامات کی زیارت کرنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ بقرہ آیت نمبر ۶۲ اور سورۃ مائدہ آیت نمبر ۶۹ کی تفسیر ی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ’’وَوَجَدَک عائِلًا فَأَغْنی‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 1
  • ’’القاہا إلی مریم و روح منہ‘‘ کی تفسیر

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ القرآن اکیڈمی‘‘ میں تفسیر پڑھنا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • سورۃ ہود کی آیت نمبر۱۰۷ اور ۱۰۸ کی وضاحت

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • آیت ﴿ و مکروا ومکراللہ﴾ کے ترجمہ سے متعلق ایک اشکال

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’حضورؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’أن لیس للانسان إلا ماسعیٰ‘‘ اور احادیث میں ظاہری تعارض کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • ’’ہر چیز نے اپنے اصل کی طرف جانا ہے‘‘ کا مطلب

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
  • معوّذتین کے شانِ نزول(نبی ﷺ پر جادو)کےمنکر کا حکم

    یونیکوڈ   آیات کی تفسیر و تشریح 0
Related Topics متعلقه موضوعات