السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!
امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے یہ اعتراض کیا ہے:
"جب حضرت عمرؓ نے بیت المقدس فتح کیا تو وہاں ایک مسجد تعمیر کی، جسے 'مسجد اقصیٰ' کا نام دیا گیا۔ جبکہ قرآنِ کریم کے پندرہویں پارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے 'مسجد اقصیٰ' کا ذکر فرمایا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے، کیونکہ اُس وقت تو یہ نام تھا ہی نہیں! یہ تو تحریف ہے، جو حضرت عمر نے کی ہے۔"
براہ مہربانی، آپ اس بارے میں کچھ رہنمائی فرمائیں۔
قرآنِ مجید میں مذکور "المسجد الأقصى" سے مراد صرف عمارت نہیں، بلکہ وہ مقدس مقام ہے جوروزاول سے ہی اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص رہا ہے، اور ہزاروں سال سے انبیاء کرام علیہم السلام وہاں عبادت کرتے آئے ہیں۔
حضرت عمرؓ نے جب 15 ہجری میں بیت المقدس فتح کیا تو وہاں پہلے سے موجود مسجد اقصیٰ کا مقام ویران حالت میں تھا، جسے آپؓ نے صاف کروا کر دوبارہ آباد کیا،یعنی حضرت عمرؓ نےنئی مسجد نہیں بنائی، بلکہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی و شرعی مقام کو دوبارہ زندہ کیا۔ ۔
لہٰذا قرآن مجید میں "المسجد الأقصى" کا ذکر نہ صرف تاریخی لحاظ سے درست ہے، بلکہ یہ ایک مقدس شرعی مقام کی طرف اشارہ ہے، جو اس وقت بھی اپنی اصل حیثیت میں موجود تھا، اگرچہ عمارت تباہ حال تھی۔قرآن کریم الحمد للہ محفوظ، مکمل، غیر محرف ہے، اور قیامت تک محفوظ رہے گا۔
لہذا،مذکورشخص کایہ الزام قرآن، حدیث، تاریخ اور اجماعِ امت کے خلاف ہونے کے ساتھ باطل، فاسد العقیدہ، اور گمراہی پر مبنی اور محض فتنہ پروری ہے ۔ اس سے متاثر نہ ہواجائے ۔
قال اللہ تعالی فی التنزیل : إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ [الحجر: 9]
«صحيح البخاري» (3/ 1260):
«عن أبي ذر رضي الله عنه قال:قلت: يا رسول الله، أي مسجد وضع أول؟ قال: (المسجد الحرام). قلت: ثم أي؟ قال: (ثم المسجد الأقصى). قلت: كم كان بينهما؟ قال: (أربعون، ثم قال: حيثما أدركتك الصلاة فصل، والأرض لك مسجد).»
«فتح الباري» لابن حجر (6/ 409 ط السلفية):
«وقال الخطابي يشبه أن يكون المسجد الأقصى أول ما وضع بناءه بعض أولياء الله قبل داود وسليمان ثم داود وسليمان فزادا فيه ووسعاه فأضيف إليهما بناؤه قال وقد ينسب هذا المسجد إلى إيلياء فيحتمل أن يكون هو بانيه أو غيره ولست أحقق لم أضيف إليه قلت الاحتمال الذي ذكره أولا موجه وقد رأيت لغيره أن أول من أسس المسجد الأقصى آدم عليه السلام وقيل الملائكة وقيل سام بن نوح عليه السلام وقيل يعقوب عليه السلام فعلى الأولين يكون ما وقع ممن بعدهما تجديدا كما وقع في الكعبة وعلى الأخيرين يكون الواقع من إبراهيم أو يعقوب أصلا وتأسيسا ومن داود تجديدا لذلك وابتداء بناء فلم يكمل على يده حتى أكمله سليمان عليه السلام لكن الاحتمال الذي ذكره بن الجوزي أوجه وقد وجدت ما يشهد له ويؤيد قول من قال إن آدم هو الذي أسس كلا من المسجدين»
«البداية والنهاية» (7/ 58):
«فلما فتح عمر بيت المقدس وتحقق موضع الصخرة، أمر بإزالة ما عليها من الكناسة حتى قيل إنه كنسها بردائه، ثم استشار كعبا أين يضع المسجد؟ فأشار عليه بأن يجعله وراء الصخرة، فضرب في صدره وقال. يا ابن أم كعب ضارعت اليهود: وأمر ببنائه في مقدم بيت المقدس.
قال الإمام أحمد: حدثنا أسود بن عامر ثنا حماد بن سلمة عن أبي سنان عن عبيد بن آدم وأبي مريم وأبي شعيب أن عمر بن الخطاب كان بالجابية فذكر فتح بيت المقدس، قال قال ابن سلمة: فحدثني أبو سنان عن عبيد بن آدم سمعت عمر يقول لكعب: أين ترى أن أصلي؟ قال إن أخذت عني صليت خلف الصخرة وكانت القدس كلها بين يديك، فقال عمر ضاهيت اليهودية لا ولكن أصلي حيث صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتقدم إلى القبلة فصلى، ثم جاء فبسط رداءه وكنس الكناسة في ردائه وكنس الناس.»
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0