محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آپ خیریت و عافیت کے ساتھ ہوں گے۔
ہمارے علاقے میں کوئی مستقل عیدگاہ موجود نہیں ہے، اس وجہ سے ہم ہر سال عید کی نماز مساجد میں ادا کرتے ہیں۔ اس مرتبہ ہماری یہ کوشش ہے کہ علاقے کی چھ یا سات مساجد باہم مشورے سے ایک مشترکہ مقام پر عید کی نماز کا اہتمام کریں۔
ہمارے محلے میں ایک مدرسہ واقع ہے جس کے ساتھ ایک پلے گراؤنڈ بھی ہے، جو عام طور پر طلبہ کھیل کود کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بعض اوقات خاص مواقع پر اسے پارکنگ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم اس میدان میں عید کی نماز ادا کرنے پر غور کر رہے ہیں، اور اس سلسلے میں کچھ شرعی رہنمائی درکار ہے:
1. کیا عید کی نماز کے لیے اس پلے گراؤنڈ کا استعمال شرعاً درست ہوگا؟
2. کیا اس پلے گراؤنڈ کو شرعی اعتبار سے عیدگاہ کا حکم حاصل ہوگا؟
3. کیا پلے گراؤنڈ میں عید کی نماز کی ادائیگی سے عیدگاہ میں نماز پڑھنے کی سنت پوری ہو جائے گی؟
4. اگر کچھ مساجد کے مصلی حضرات مسجد ہی میں عید کی نماز پڑھنا چاہیں، تو کیا ان سے عیدگاہ میں نماز پڑھنے کی سنت فوت ہو جائے گی؟
5. کیا نمازِ عید کے بعد مدرسے کے بچے حسبِ معمول اس پلے گراؤنڈ میں کھیل سکتے ہیں؟
6. اگر چار یا پانچ مساجد مل کر کسی ایک مقام پر عید کی نماز ادا کریں، تو کیا یہ مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے یا ثواب میں برابر ہے؟
آپ کی رہنمائی ہمارے لیے باعثِ سعادت ہوگی۔
جزاکم اللہ خیراً۔
وا ضح ہو کہ عید گاہ دراصل ایسی جگہ کو کہا جاتا ہے جو باقاعدہ وقف کر کے عیدین کی نمازوں کے لئے خاص کر دیا جا ئے تاہم اگر کوئی جگہ پہلے سے دوسرے امورکے لئے مختص ہو یا کسی کی شخصی ملکیت ہو لیکن ان کی طرف سے عیدین کی نماز ادا کرنے کی اجازت ہو تو ایسی جگہ پر لوگوں کو جمع کر کے عیدین کی نماز ادا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔ لہذا سوال میں مذکور پلے گراونڈ اگر علاقے کا مشترکہ امور ( بچوں کے کھیل کود اور پار کنگ وغیرہ ) کےلئے وقف ہو تو اس میں عیدین کی نماز ادا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے اور دیگر ایام میں حسب ِ منشاء دیگر امور کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس میں عیدگاہ والی سنت بھی پوری ہو جائے گی۔
وفي عمدۃ القاری : عن أبي سعيد الخدري قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم ويوصيهم ويأمرهم فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه أو يأمر بشيء أمر به ثم ينصرف(ج: 6 باب خروج الی المصلی ص : 278 ناشر : بیروت )
وفیہا ایضا : فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا،الخ (ج:4 باب الصلاۃ فی مرابط الغنم ص : 179 ناشر : بیروت )
وفی حاشیۃ ابن العابدین : أما مصلى العيد لا يكون مسجدا مطلقا، وإنما يعطى له حكم المسجد في صحة الاقتداء بالإمام، وإن كان منفصلا عن الصفوف وفيما سوى ذلك فليس له حكم المسجد،الخ (ج؛4 مطلب طالب التولیۃ لا یو لی ص : 356 ناشر سعید )