بخدمت محترم مفتیانِ کرام،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ایک اصولی اور شرعی سوال کے سلسلے میں مؤدبانہ رہنمائی درکار ہے۔اگر کوئی شخص1۔جوئے کا عادی ہو اور کھلے عام کسینو و قمار بازی کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرتا ہو،2۔اپنی خواتینِ خانہ کی بے حیائی کے ساتھ ساتھ، رقص اور تمباکو نوشی جیسی لغویات کو سوشل میڈیا پر فخریہ انداز میں پھیلانے پر انکی حوصلہ افزائی کرے،3۔ دوسروں کو منافقت، دہرا معیار، اور دینی بےحسی پر ابھارتا ہو، اور شعائر ِاسلام کی کھلے عام رد و تکزیب کرتا ہو،4۔ اسکی اپنی بیٹی کے بقول اسکو جبرًا شادی پر مجبور کر کے دو خاندانوں کی زندگی تباہ کر چکا ہو،5۔ اسمگلنگ، ممنوعہ اشیاء کی تجارت، جعلی ادویات کی تیاری و فروخت کے گھنونے کاروبار میں ملوث، عادی مجرم ہو اور جیل کاٹ چکا ہو،6۔ اور رشوت ستانی کے ذریعے سرکاری اداروں کو خرید کر حرام نفع کماتا ہوتو کیا ایسا شخص شرعی لحاظ سے “عادل” یا “قابلِ اعتماد” گواہ شمار ہو سکتا ہے؟اور اگر وہ کسی معاملے میں فتویٰ کے حصول کے لئے قسم یا بیان دے تو کیا اس کی بات پر شرعی لحاظ سے اعتماد کیا جانا درست ہوگا؟یا اس کے کردار اور فسق و فجور کے پیشِ نظر، اس کی بات کو فتویٰ کی بنیاد بنانا غیر معتبر قرار پائے گا؟
برائے مہربانی اس بابت شرعی رہنمائی فرمائی جائے تاکہ حق و باطل میں تمیز ممکن ہو سکے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته
واضح رہے کہ فتویٰ اور قضاء دو الگ الگ حیثیت کے حامل امور ہیں ۔فتویٰ کی حیثیت سائل کے بیان کردہ صورت حال کے تناظر میں درست حکم ِشرعی کی رہنمائی کرنا ہے ،جبکہ قضاء میں فریقین کے بیانات نیزگواہوں کی گواہی اور اس کے درست اور غلط ہونے کی جانچ پڑتال کے علاوہ گواہوں کےگواہی دینے کا اہل ہونا اور اس کی تصدیق کرنا بھی قاضی کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص سوال میں درج کردہ برائیوں اور گناہوں میں ملوث ہو لیکن اگر کسی مسئلے میں شرعی رہنمائی کے لئے کسی مفتی کے سامنے وہ کوئی سوال رکھتا ہے تو مفتی کے لئے، موقع کی مناسبت سے ممکنہ تحقیق کے بعد، اس کے بیان کے مطابق شرعی رہنمائی کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا ۔
تاہم اگر فریقین قاضی/ جج کے سامنے اپنا مقدمہ رکھ لیتے ہیں یا کسی مفتی و عالم کو باہمی رضا مندی سے فیصلہ کرنے کے لئے حَکَم اورثالث بنا لیتے ہیں ،جس میں مذکور شخص کا بیان بطورِ گواہ شامل کرنے کی صورت ہو تو وہاں گواہ کے لئے مطلوبہ شرائط کا پایا جانا ضروری ہوگا۔
کما فی تفسیر الماتریدی : وقوله: (يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا. . .) الآية. ۔۔۔۔وهكذا الواجب على المؤمن الوقف عند اعتراض الشبهة في كل فعل وكل خبر؛ لأن الله - تعالى - أمر بالتثبت في الأفعال بقوله: (فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا)، وقال في الخبر: (إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا)، أمر بالتثبت في الأخبار عند الشبهة، كما أمر في الأفعال لنبيه صلى الله عليه وسلم: (ولا تقف ما ليس لك به علم).(ج 3 ص331 ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
و فی تفسیر المظہری: قوله تعالى ولا تجعلوا الله عرضة لأيمانكم مسئله ان الإكثار بالحلف مكروه.الخ (سورة القلم، ج:10، ص:34، ط:دار الرشدية)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: (وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: " وإياكم وكثرة الحلف في البيع ") أي: اتقوا كثرتها ولو كنتم صادقين، لأنه ربما يقع كذبا، ولذا ورد: «كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع» ، ويؤيده حديث: الراعي حول الحمى، فقيد الكثرة احترازا عن القلة، فإنه قد يحتاج إليه فلا يدخل التحذير، ولذا جاء في بعض الطرق: رجل جعل الله بضاعته لا يشتري إلا بيمينه ولا بيع إلا بيمينه. وقال الطيبي - رحمه الله: إياكم منصوب على التحذير، أي: قوا أنفسكم عن إكثار الحلف، وإكثار الحلف عن أنفسكم كرره للتأكيد والتنفير، والنهي عن كثرة الحلف فيه لا تقتضي جواز قلتها، لأن النهي وارد على أهل السوق وعادتهم كثرة الحلف.الخ (كتاب البيوع، باب المساهلة في المعاملة، ج:5، ص:1908، ط:دارالفكر)۔
و فی سنن الترمذی:عن عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه.(أبواب الأحكام، باب ما جاء في أن البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه، 18/3، ط:دار الغرب الإسلامي)۔