کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن مسماۃ اسراء کا نکاح ہو گیا تھا، وہ تین مہینے شوہر کے ساتھ رہنے کے بعد واپس گھر آئی تھی، اس وقت وہ دو مہینے کے حمل سے تھی، لیکن وہ کچھ ذہنی نفسیاتی قسم کی معذور تھی، سات مہینے کے بعد میری بہن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، لیکن ہم نے ان کے شوہر اور سسرال والوں کو نہیں بتایا، ۲۷ مئی کو میری بہن نے گھر کی چھت سےچھلانگ لگائی، اور فوت ہو گئی، اب وہ بچہ سات مہینے کا ہے، اس بچے کی پرورش کی ذمہ داری کس کی ہے؟ جبکہ بچے کا باپ نہ کماتا ہے، نہ کچھ کرتا ہے، سسرال والے بھی بہت لالچی قسم کے لوگ ہیں، اس وجہ سے ہم نے ابھی تک ان کو بچے کے بارے میں بتایا بھی نہیں، کیونکہ وہاں بچے کی کفالت اور تربیت ممکن نہیں ہے، بچے کی پرورش کے متعلق جو بھی شرعی حکم ہو تفصیل سے بتا دیں۔
واضح ہو کہ مذکور بچے کی پیدائش کو اب تک چھپائے رکھنا درست نہیں، بلکہ اس کو ظاہر کر کے بچے کے والد کو مطلع کرنا لازم ہے، مذکور بچے کی پرورش کی حقدار اس بچے کی نانی ہے، اگر نانی نہ ہو تو دادی کے ذمہ ہوگی، اگر وہ بھی نہ ہو تو بچے کی خالہ اور اگر وہ بھی نہ ہو تو پھر بچے کی پھوپھی کرے گی۔ جبکہ پرورش کے دوران بچے پر آنے والے تمام تر اخراجات بچے کے والد کے ذمہ ہونگے۔
ففی الدر المختار: (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك) ثم خالة الأم كذلك، ثم خالة الأب كذلك ثم عمات الأمهات والآباء بهذا الترتيب؛ ثم العصبات بترتيب الإرث، فيقدم الأب ثم الجد ثم الأخ الشقيق، ثم لأب ثم بنوه كذلك، ثم العم ثم بنوه. وإذا اجتمعوا فالأورع ثم الأسن، اختيار، (3/ 563) واللہ اعلم بالصواب