سائل عرصہ تیس (30) سال تک ڈسٹرکٹ کونسل میں ٹیکس انسپکٹر رہا ہے، اس عرصہ میں معمولی پیمانہ پر دکانداروں سے رشوت لیتا رہا ہے، جوکہ اکثر وفات پاگئے ہیں، ان کا اور ان کے وارثوں کا سائل کو کوئی پتہ نہیں ہے، اور نہ ہی سائل انہیں جانتا ہے، اب ان کے مالی حقوق کی ادائیگی کی کیا صورت ہوسکتی ہے، اور جملہ رقم کا تعین کس طرح ہوگا، کیا یہ جملہ رقم میں اپنی بیوہ لڑکی کو جس کے چار چھوٹے یتیم بچے ہیں، اور مجھ سے الگ رہتی ہے یکمشت دے سکتا ہوں؟
اس طرح ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کے اصل حقدار وہی لوگ ہیں، جس سے یہ رقم لی گئی ہے، اب اگر اس تک اس رقم کا لوٹانا ناممکن ہو تو ان کے ورثاء تک اور اگر وہ بھی نامعلوم ہوں اور باوجود کوشش کے ان تک رسائی نہ ہوسکتی ہو تو اس صورت میں ان اصل مالکان کی طرف سے اس رقم کو واقعی مستحقین پر صدقہ کیا جائے۔
اب اگر سائل کی بیٹی واقعۃ مستحق زکوۃ ہو اس طور پر کہ اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سو نا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے برابر مال تجارت یانقد یا ان تمام چیزوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر نہ بنتا ہو، تو اس صورت میں یہ بھی مستحق زکوۃ ہے، اور یکمشت اسے بھی دے سکتے ہیں، مگر اسے اتنی رقم دینا مکروہ ہے کہ وہ خود صاحب نصاب بن جائے اس لیے بہتر یہ ہے کہ چند مستحقین میں اس رقم کو اصل مالکان کو ثواب پہنچانے کی غرض سے تقسیم کیا جائے۔
کما فی معارف السنن: من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد الی المالک فسبیلہ التصدق علی الفقراء الخ (1/34)۔