السلام علیکم ! (1) رشوت اور کمیشن میں کیا فرق ہے؟ اور کمیشن جائز ہے یا نہیں ؟ (2) زید جس کمپنی میں کام کرتا ہے وہاں ایک جماعت کے لیے جگہ ہوتی ہے ، وہ ایک بندے کو اس شرط پر کام لگواتا ہے اگر اس کا کام ہو جائے تو اپنی پہلی تنخواہ زید کو کمیشن کے طور پر دیگا، جس پر وہ بندہ رضامند ہو جاتا ہے زید اپنے منیجر سے اس بندے کی سفارش کرتا ہے، اور انٹر ویو کے بعد اس کی جاب ہو جاتی ہے، لیکن کمیشن کا منیجر یا کمپنی کو نہیں پتا ہو تا، تو کیا اب زید کے لیے یہ کمیشن جائز ہے یا نہیں؟
کسی حق کو ناحق یا کسی باطل کو حق ثابت کرنے یا سرکاری ملازم کا اپنے ذمہ کام کرنے کے لیے دیا جانے والا عوض رشوت اور اپنے حق الخدمت کے طور پر کسی کی کمائی سے مخصوص حصہ وصول کرنے کو کمیشن کہا جاتا ہے، جبکہ سوال میں ذکر کر دہ صورت رشوت کی ہے، اس لیے زید کے لیے مذکورہ شخص سے پہلی تنخواہ وصول کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي قوله تعالى: {أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ } [المائدة: 42]
و في سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم» اھ (3/ 614)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله أو مدة) إلا فيما استثنى: قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة اھ (6/ 47) واللہ اعلم بالصواب