مکروہات

کسی سے دھوکہ کے ذریعہ اپنی رقم وصول کرنا

فتوی نمبر :
85493
| تاریخ :
2025-08-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مکروہات

کسی سے دھوکہ کے ذریعہ اپنی رقم وصول کرنا

ایک شخص نے دھوکے سے جھوٹ بول کر میرے چار سے پانچ لاکھ روپے ہتھیا لیے، اب میرے پاس موقع ہے کے میں آہستہ آہستہ دھوکے کے ہی ذریعے اتنے پیسے لینا چاہتا ہوں جتني رقم اس شخص نے مجھ سے دھوکے سے لی، میں اپنی رقم واپس لینا چاہتا ہوں، کوئی قانونی آپشن بھی موجود نہیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی شخص سے مال کی وصولی کے لیے اسی طرح جھوٹ ،دھوکہ دہی اورغصب کاطریقہ اپنانا درست نہیں،البتہ فقہاءکرام نے یہ لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کےمال پر قبضہ کرلیا ہو،باوجودقدرت کے وہ ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے رہاہو اور مظلوم کے لیےاس سے واپس لینے کا کوئی قانونی راستہ ممکن نہ ہو، تومتاخرین فقہاء احناف کے نزدیک ایسے شخص کاکوئی بھی مال کسی ذریعہ سے قبضہ میں آجائے تواس کے مال میں سےاپناحق وصول کرنے کی گنجائش ہے ۔لہذاصورت مسئولہ میں سائل کاحق اگرثابت شدہ اوریقینی ہو،اوراس کی وصولی بھی بغیردھوکہ دہی کے ممکن ہوتو اس کے لیےصرف اپنےحق کے بقدراس کے مال سے وصولی کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (ومثل دينه ولو) دينه (مؤجلا أو زائدا عليه) أو أجود لصيرورته شريكا (إذا كان من جنسه ولو حكما) بأن كان له دراهم فسرق دنانير وبعكسه هو الأصح لأن النقدين جنس واحد حكما خلاف العرض ومنه الحلي، فيقطع به ما لم يقل أخذته رهنا أو قضاء. وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس للمجانسة في المالية. قال في المجتبى وهو أوسع فيعمل به عند الضرورة إلخ
و فی رد المختار : تحت (قوله وأطلق الشافعي أخذ خلاف الجنس) أي من النقود أو العروض؛ لأن النقود يجوز أخذها عندنا على ما قررناه آنفا. قال القهستاني: وفيه إيماء إلى أن له أن يأخذ من خلاف جنسه عند المجانسة في المالية، وهذا أوسع فيجوز الأخذ به وإن لم يكن مذهبنا، فإن الإنسان يعذر في العمل به عند الضرورة كما في الزاهدي. اهـ. قلت: وهذا ما قالوا إنه لا مستند له، لكن رأيت في شرح نظم الكنز للمقدسي من كتاب الحجر. قال: ونقل جد والدي لأمه الجمال الأشقر في شرحه للقدوري أن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم لمطاوعتهم في الحقوق. ‌والفتوى ‌اليوم ‌على ‌جواز ‌الأخذ ‌عند ‌القدرة ‌من ‌أي ‌مال ‌كان ‌لا ‌سيما ‌في ‌ديارنا ‌لمداومتهم ‌للعقوق: اھ ( کتاب السرقۃ، مطلب يعذر بالعمل بمذهب الغير عند الضرورة، ج 4، ص 95، ط دارالفکر بیروت )-
و فی فقہ الاسلامی و أدلتہ للزحیلی : قال ابن عابدين: إن عدم جواز أخذ الدائن شيئاً للمدين من خلاف جنسه حقه، كان في زمانهم ـ أي زمان متقدمي الحنفية ـ لمطاوعتهم في الحقوق، ‌والفتوى ‌اليوم ‌على ‌جواز ‌الأخذ ‌عند ‌القدرة ‌من ‌أي ‌مال ‌كان، ‌لا ‌سيما ‌في ‌ديارنا ‌لمداومتهم ‌للعقوق اھ ( ‌‌6 - أن يكون المال المسروق معصوماً، ليس للسارق فيه حق الأخذ ولا تأويل الأخذ، ولا شبهة التناول (انتفاء شبهة الأخذ)، ج 7، ص 5451، ط دارالفکر دمشق )-
و فی مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی : وقال أبو حنيفة رحمه الله: يجوز له الأخذ إن كان ما وجده من جنس حقه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دراهم مملوكة له. يجوز له أخذها بقدر حقه، ولا يجوز له إن كان من غير جنسه، مثل أن تكون له على المدين دراهم، فوجد دنانير، لا يجوز له الأخذ. هذا أصل مذهب الحنفية، لكن المتأخرون من فقهاء الحنفية أفتوا في هذه المسألة بقول الشافعي، رحمه الله، فأجازوا للظافر أن يستوفي حقه مما ظفر به من مال المدين مطلقا، سواء كان المال الذي ظفر به من جنس حقه، أو لم يكن. يقول ابن عابدين ناقلا عن شرح القدوري للأخصب: (إن عدم جواز الأخذ من خلاف الجنس كان في زمانهم، لمطاوعتهم في الحقوق. ‌والفتوى ‌اليوم ‌على ‌جواز ‌الأخذ ‌عند ‌القدرة من أي مال كان، لا سيما في ديارنا، لمداومتهم العقوق) اھ (‌‌أحكام الودائع المصرفية تأليف القاضي محمد تقي العثماني، الجزء 9، ص 603 ) –
و فی موسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ : وقال الشافعي: إن لم يقدر على استخلاص حقه بعينه فله أخذ قدر حقه من جنسه، أو من غير جنسه، إن لم يخف الفتنة. وإن كانت له بينة وقدر على استخلاص حقه فالمذهب عند الشافعية: أن له أخذ جنس حقه من ماله، وكذا غير جنسه للضرورة. وفي قول آخر: المنع، لأنه لا يتمكن من تملكه، وما كان كذلك لا بد فيه من التراضي ( إلی قولہ ) وقال أبو حنيفة: له أن يأخذ بقدر حقه إن كان نقدا أو من جنس حقه، وإن كان المال عرضا لم يجز، لأن أخذ العوض عن حقه اعتياض، ولا تجوز المعاوضة إلا بالتراضي، لكن المفتى به عند الحنفية جواز الأخذ من خلاف الجنس. اھ ( استيفاء الحق من مال الغير بصفة عامة، ج 4، ص 153، ط دار السلاسل الکویت )-
و فی درر الأحکام شرح غرر الأحکام : لأن الغريم له أن يستوفي حقه من مال غريمه إذا ظفر بحبس حقه، فإن كان فيها فضل رده لانتهاء حكم الرهن بالاستيفاء، وإن كانت أقل من حقه رجع عليه بالزيادة لعدم ما يسقطه اھ باب التصرف والجنایۃ فی الرھن، ج 2، ص 257، ط دار احیاء الکتب العربیۃ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85493کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کھڑے ہوکر وضو اور پیشاب کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • مرد کے لئے اپنے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • اجرت پرھوم ورک اوراسائنمنٹ تیارکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 2
  • سینے سے بال صاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • کیا ذی الحجہ کے دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنا حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • مرد کا بھنویں اکھاڑنے اور اس پر پکا کلر کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کم عمربچوں سے اشعارپڑھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • آن لائن فوڈ ایپ کے واؤچر کا غلط استعمال

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا-زیر ناف بال کاٹنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • بینک ملازم کے لڑکے کو بیٹی کا رشتہ دینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • کافر کا جوٹھا استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مونچھ مونڈھنا-زیرِ ناف صفائی کے لۓ کریم - پاؤڈر کا استعمال

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • چیس گیم کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء مخصوصہ کو چومنے اورچاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پیچ شدہ موبائل خریدنے اور خود موبائل پیچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے ہجرت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • پینے کیلئے رکھے ہوئے پانی سے ہاتھ دھونا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • تبلیغ میں جانے کے لئے جھوٹ بول کر چھٹی لینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مشغلہ اور کھیل کے طور پر شکار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میت کے گھر میں تین دن تک کھانا کھانا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • لوگوں کے سامنے اپنی بزرگی بیان کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مرحوم والد صاحب کی تصویریں شیئر کرتے رہنا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • عورت کا باپردہ ہو کر اپنی آواز میں, یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیو اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • پب جی گیم کھیلنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
Related Topics متعلقه موضوعات