کیا بینک میں کام کرنا درست ہے؟ جبکہ سودی ماحول ہو، میری ملازمت، میری مجبوری ہے کیونکہ میرے خاندان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہے، مجھے علم ہے کہ شریعت میں سود حرام ہے۔
بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے ہو ،جیسے منیجر ،کیشئر وغیرہ کی ملازمت ، ایسی ملازمت بالکل ناجائزاور حرام ہے اور اس پر ملنے والی تنخواہ بھی حرام ہے، چنانچہ ایک حدیث مبارک میں ہے" لعن رسول اللہ ﷺ اکل الربا وموکلہ الخ"یعنی رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے ، سود لینے والے سودی تحریر لکھنے والے اور سود پر شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں۔
اب اگر سائل بھی اسی قسم کی ملازمت کرتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ اسے ترک کردے اور کوئی دوسری ایسی ملازمت اختیار کرے جس میں سودی لین دین اور دیگر غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کرنا پڑتا ہو، تاہم جب تک اسے کوئی ایسی ملازمت نہ مل سکے اس وقت تک اسے ناجائز سمجھتے ہوئے برقرار رکھنے کی گنجائش ہے، مگر تلاش کرنے میں کوتاہی سے احتراز لازم ہے۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0