السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتیانِ کرام!
اللہ تعالیٰ آپ کو دین کی خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ میں دو مسائل کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں: قبرستان کی زیارت (خواتین کے لیے): کیا عورت کے لیے اپنے والد یا والدہ یا قریبی رشتہ دار کی قبر پر جانا شرعاً جائز ہے؟ اگر وہ پردہ اور وقار کے ساتھ جائے، بغیر نوحہ و چیخ پکار کے صرف دعا اور قرآن کی تلاوت کرے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ عید کے چاند کا مسئلہ (امریکہ میں): ہمارے علاقے (امریکہ) میں یہ مسئلہ پیش آ رہا ہے کہ بعض مساجد اور ادارے عید اور رمضان کا اعلان سائنسی کیلنڈر (astronomical calculation) کے ذریعے کرتے ہیں، جبکہ بعض مساجد اور جماعتیں صرف چاند دیکھنے (رویتِ ہلال) پر عمل کرتی ہیں، اس وجہ سے کمیونٹی میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ براہ کرم اس بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ ایسے حالات میں شرعاً کس طریقے کو اپنانا چاہیے؟ اور کیا مقامی مسجد/جماعت کے ساتھ رہنا افضل ہے یا کسی خاص طریقے پر اصرار کرنا چاہیے؟ آپ کی مفصل رہنمائی ہمارے لیے باعثِ رہنمائی اور سکونِ قلب ہوگی۔ جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء!
واضح ہو کہ جوان عورتوں کے لئے قبرستان جانے کو فقہاء کرام رحمہم اللہ نے مطلقاً مکروہ لکھا ہےالبتہ اگر کوئی بوڑھی عورت عبرت و نصیحت حاصل کرنے یا تذکرہ آخرت کے لیے قبرستان جائے تو اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ بے پردگی نہ ہو اور وہاں بلند آواز سے رونا اور جزع فزع نہ کرے، تاہم ان کا بھی نہ جانا ہی زیادہ بہتر ہے۔
جبکہ عبادت رمضان کے روزوں اور عید و غیرہ کی ابتداء چاند دیکھنے پر موقوف ہے اور احادیثِ صحیحہ میں ” رؤیت(آنکھ سے دیکھنے) “ کا لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا:”لا تصوموا حتى تروا الهلال و لا تفطروا حتى تروه “ ترجمہ : چاند دیکھے بغیر رمضان کے روزے شروع نہ کرو اور چاند دیکھے بغیرختم نہ کرو ۔( صحیح البخاری ) نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے لے کر آج تک اسے حقیقی طور پر دیکھنا ہی مراد لیا گیا ہے اور اسی پر عمل ہے، لہٰذا مقامی طور پر جو کمیٹی با قاعدہ چاند دیکھنے کا اہتمام کرتی ہو اور ان کے پاس موجود زمانے کے حساب چاند دیکھنے کے لئے مطلوبہ وسائل اور آلات بھی میسر ہوں جس سے چاند نظر آنے یا نہ آنے کا حکم یقین کے درجہ میں ہو، تو ایسی صورت میں محض فلکیات کے حسب سے مرتب کر دہ کلینڈر پر عمل کرنے کے بجائے مقامی کمیٹی کے رؤیت یا مسلمانوں کی شہادت پر عمل کرنا چاہیئے۔
کما فی رد المحتار: تحت: ( قولہ ولو للنساء) وقیل تحرم علیھن (الی قولہ )وقال الخیر الرملی، ان کان ذالک لتجدید الحزن و البکاء والندب علی ما جرت بہ عادتھن فلا تجوز ، وعلیہ حمل الحدیث ’’لعن اﷲ زائرات القبور‘‘ وان کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء و التبرک بزیارۃ قبور الصالحین فلا بأس اذا کن عجائز ویکرہ اذا کنّ شواب کحضور الجماعۃ فی المساجد الخ ( مطلب فی زیارۃ القبور، ج: 2، ص: 242، ط: سعید)۔
و فیہ أیضاً: وإنما العبرۃ لرؤیتہ بعد غروب الشمس لقولہ صلی اللہ علیہ و سلم " صوموا لرؤیتہ و أفطروا لرؤیتہ" أمر بالصوم و الفطر بعد الرؤیۃ الخ ( کتاب الصوم، ج: 2، ص: 392، ط: سعید )۔
و فی الدر المختار: و لا عبرۃ بقول الموقتین، و لو عدولا علی المذھب قال فی الوھبانیۃ و قول أولی التوقیت لیس بموجب الخ۔
و فی الرد: تحت: ( قولہ و لا عبرۃ بقول المؤقتین ) ای فی وجوب الصوم علی الناس بل فی المعراج: لا یعتبر قولھم بالاجماع، و لا یجوز للمنجم أن یعمل بحساب نفسہ، و فی النھر: فلا یلزم بقول المؤقتین إنہ أی الھلال یکون فی السماء لیلۃً کذا و إن کانوا عدولاً فی الصحیح کما فی الایضاح الخ ( کتاب الصوم، ج: 2، ص: 387، ط: سعید )۔