کیا اسلام میں انسانی اعضاءدینا جائز ہے ،جیسے میرا بھائی گردے کے مرض میں مبتلاء ہے اور اس کو گردہ ٹرانسپلانٹ کی ضرو رت ہے تو ان حالات میں گردے کو عطیہ کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ اصل قاعدہ یہ ہے کہ انسانی جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ،اس میں بلاضرورت تصرف جائزنہیں۔تاہم معاصرفقہاءنے شدیدضرورت اور جان بچانے کی صورت میں بعض شرائط کے ساتھ اعضاء کی پیوندکاری (Organ Transplant)کی اجازت دی ہے۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگر سائل کابھائی گردے کےشدیدمرض میں مبتلاء ہےاور ماہر،دین دارمسلم ڈاکٹریہ تصدیق کریں کہ گردہ کی پیوند کاری کے علاوہ جان بچانے کی کوئی مؤثرصورت نہیں،اورعطیہ دینے والےکی جان یابنیادی صحت کوسنگین خطرہ لاحق نہ ہو،تو ایسی اضطراری حالت میں ایک گردہ عطیہ کرنا درج ذیل شرائط کی پابندی کےساتھ جائزہے:
1۔گردہ کاعطیہ بغیر کسی جبرودباؤکےخالص رضامندی سےہو۔
2۔اس کے بدلے کوئی خریدوفروخت یامالی معاوضہ نہ لیاجائے۔
3۔ماہرڈاکٹرز کےنزدیک عطیہ دینےوالےکےلیےشدیدضررکااندیشہ نہ ہو۔
اگر یہ شرائط پوری ہوں تو ضرورت کی بناء پر اجازت ہے،ورنہ محض عمومی یاغیریقینی بنیاد پراعضاء نکالنا جائزنہیں،جس سے احترازلازم ہے۔
کما فی الفتاویٰ الھندیۃ: الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز (الی قولہ) وإذا كان برجل جراحة يكره المعالجة بعظم الخنزير والإنسان لأنه يحرم الانتفاع به كذا في الكبرى،(ج:5،ص:354،مط:ماجدیۃ)
وفی الأشباه و النظائر:تنبیہ آخر: (الضرر الاشد یزال بالاخف)
تقیید القاعدہ ایضا بما لو کان احدھما اعظم ضررا من الآخر، فان الاشد یزال بالاخف۔
ومنھا: جواز شق بطن المیتۃ؛لاخراج الولد اذا کانت ترجی حیاتہ۔ وقد امر بہ ابو حنیفۃ رحمہ اللہ فعاش الولد کما فی الملتقط(ص:75، ط: دار الکتب العلمیة)