السلام علیکم! میں یہ سوال اپنے چھوٹے بھائی کی طرف سے کر رہا ہوں جو آئرلینڈ میں رہتا ہے، وہ آئرلینڈ میں ایک گھر خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن وہاں کوئی اسلامی بینک موجود نہیں ہے، اس لیے اسے گھر کی خریداری کے لیے سود پر مبنی قرض (mortgage) لینا پڑے گا،فی الحال وہ کرائے کے مکان میں رہ رہا ہے، اور جتنی رقم وہ کرائے میں دیتا ہے، تقریباً اتنی ہی رقم قسطوں (mortgage payments) میں ادا کر کے اپنا ذاتی گھر حاصل کر سکتا ہے۔ اس اعتبار سے عملی طور پر mortgage لینا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
کیا ایسے حالات میں اس کے لیے سود پر گھر خریدنا جائز ہے؟اور اگر یہ طریقہ شرعی طور پر ناجائز ہے تو اس کے لیے کیا متبادل راستہ موجود ہے؟
مورگیج کے ذریعے حصول مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہوتو بلاشبہ ناجائز ہے، اور اس سے احتراز لازم ہے،البتہ اگر کوئی شخص، ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرلیں، اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعے قسطوں پر دیں اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداءً ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی،اور کسی قسط کی تاخیر پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کی جائے ،تو اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہے، یا سائل کسی شخص یا ادارے وغیرہ کے اشتراک سے مشتر کہ طور پر کوئی مکان خریدے اور پھر اس شخص اور ادارے وغیرہ سے اس کا حصہ کرایہ پر لیکر اسے کرایہ دیتا رہے ، اور وقتاً فوقتاً اسکے حصے میں سے مزید حصے کی خریداری کرتے رہے تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہوگا اور سائل کچھ عرصے بعد اپنے مکان کا مالک بھی بن جائےگا ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : یاایّھا الذین اٰمنوا لا تأکلوا الربوا اضعافا مضاعفۃ واتقوا اللہ لعلکم تفلحون( سورۃاٰل عمران، آیۃ 130)۔
وقال تعالیٰ: یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات واللہ لا یحب کلّ کفار اثیم إلخ(سورۃ البقرۃ، آیۃ276)۔
وفی صحیح مسلم : عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسولﷺ اٰکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء الخ(باب أخذ الحلال وترک الشبھات، ج 2، ص 860، ط: بشری)۔
وفی الدر المختار:(و صح بثمن حال) وھو الأصل (ومؤجل إلی معلوم) لئلا یفضی إلی النزاع ولو باع مؤجلا صرف إلی شھر بہ یفتی إلخ۔
وفی رد المحتار:تحت (قولہ لئلا یفضی إلی النزاع) تعلیل الاشتراط کون الأجل معلوم (إلی قولہ) ومنھا اشتراط أن یعطیہ الثمن علی التفاریق أو کل اسبوع البعض، فإن لم یشترط فی البیع بل ذکر بعدہ لم یفسد ، و کان لہ أخذ الکل جملۃ و تمامہ فی البحر الخ (کتاب البیوع، مطلب فی التأجیل الخ، ج: 4 ص: ،531 ط: سعید)۔
وفي فقه البيوع: وكما يجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة،كذلك يجوز أن يكون اداء الثمن بأقساط بشرط أن تكون أجال الأقساط ومبالغها معينة عند العقد و قد يسمى "البيع بالتقسيط" وهو نوع من البيع المؤجل والأقساط قد تسمى "نجوما" انتهى الخ(البيع بالتقسيط، ج: ا، ص: 539، ط: مكتبة معارف القرآن)-