سوال:
میں نے ایک وقت اللہ تعالیٰ سے سیدھا وعدہ کیا تھا کہ مطلب کہ میں نےکہاتھا کہ یااللہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ساری زندگی شادی نہیں کروں گا۔ کیا مجھے یہ وعدہ نبھانا ضروری ہے . براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
مذکور وعدہ کو پورا کرنے میں چونکہ سنت عمل سے روگردانی اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کیلئے مذکور وعدہ نبھانا شرعاً لازم نہیں ،اس لئے سائل اگر اس وعدہ کے خلاف کرتے ہوئے نکاح کر لے تو اس پر کوئی گناہ اور کفارہ لازم نہ ہوگا ،البتہ آئندہ کیلئے اس طرح کے غیر ضروری عہد ووعدے کرنے سے اجتناب لازم ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿یٰأیھا الذین اٰمنوا أوفوا بالعقود﴾ الآیۃ
و فی صحیح البخاری : عن أنس بن مالك رضي الله عنه يقول: جاء ثلاثة رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم، فلما أخبروا كأنهم تقالوها، فقالوا: وأين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم؟ قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، قال أحدهم: أما أنا فإني أصلي الليل أبدا، وقال آخر: أنا أصوم الدهر ولا أفطر، وقال آخر: أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقال (أنتم الذين قلتم كذا وكذا؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني) رقم الحدیث،4772 ۔)