کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے
کہ
کسی کی ذاتی( ملکیتی) زمین ہو جس میں اپنے گھرانے کے افراد کی ایک دو نئی قبریں بھی ہوں اور مزید قبروں کی گنجائش بھی ہو ،
کیا مالکان اپنی اس قبروں والی زمین پر صدقہ جاریہ کی خاطر چھت ڈال کر اوپر
مسجد ومدرسہ بنا سکتے ہیں ؟
شکریہ
صورت مسئولہ میں مذکور قبریں اگر زمین کی کسی ایک جانب ہو ں تو اس حصہ کو چھوڑ کر بقیہ حصہ پر تعمیر کرلی جائے، تاکہ بے ادبی کا شائبہ با قی نہ رہے، تاہم مذکور قبروں کے اوپر بھی چھت ڈالنی پڑجائے تو بوقت مجبوری اس کی بھی گنجائش ہے ۔
كما في الصحيح للبخاري: عن أنس قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فنزل أعلى المدينة في حي يقال لهم بنو عمرو بن عوف الی قولہ فقال يا بني النجار ثامنوني بحائطكم هذا قالوا لا والله لا نطلب ثمنه إلا إلى الله فقال أنس فكان فيه ما أقول لكم قبور المشركين وفيه خرب وفيه نخل فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقبور المشركين فنبشت(ھل ینبش قبور
مشرکی الجاھلیۃویتخذھا مساجد، رقم الحدیث:428)
وفی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:قال ابن القاسم :لو ان مقبرۃ من مقابر المسلمین عفت فبنی قوم فیھا مسجدا لم ار بذلک باسا لأن المقابر وقف من اوقاف المسلمین لدفن موتاھم لایجوز لاحد ان یملکھا فاذا درست واستغنی عن الدفن فیھا جاز صرفھا الی المسجد لان المسجد ایضا وقف من اوقاف المسلمین لا یجوز تملیکہ لاحد فمعناھما واحد (باب ھل ینبش قبور مشرکی الجاھلیۃ ویتخذ مکانھا مسجدا ،ج:4،ص: 265،ناشر: دار کتب العلمیۃ بیروت)
وفي رد المحتار وإن بقي من عظامهم شيء تنبش وترفع الآثار وتتخذ مسجدا لما روي أن مسجد النبي كان قبل مقبرة للمشركين فنبشت كذا في الواقعات اه(مطلب فی دفن المیت،ج:2،ص:234،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: وإن بقيت آثارهم بأن بقي من عظامهم شيء ينبش ويقبر ثم يجعل مقبرة للمسلمين لأن موضع مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مقبرة للمشركين فنبشت واتخذها مسجدا كذا في المضمرات (کتاب الوقف،الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر، ج:2،ص:469،ناشر:ماجدیۃ