میرے مرحوم والد (وفات: 31 مئی 2006) کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی بیوی سے ان کی 7 اولادیں تھیں، اور دوسری بیوی سے ایک بیٹا میں خود ہوں۔اب عدالت میں پہلی فیملی اور میرے چچا میری ولدیت کا انکار کر رہے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میرے پاس پہلے ہی سرکاری ریکارڈ موجود ہیں جیسے برتھ سرٹیفکیٹ، ایف آر سی، سی آر سی، شناختی کارڈ، تعلیمی ریکارڈ، خاندانی تصاویر اور ویڈیوز جو ثابت کرتے ہیں کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔میں مذہبی وجوہات کی بنا پر اور اس خدشے کی وجہ سے کہ اس میں رد و بدل ہو سکتا ہے، ڈی این اے ٹیسٹ سے اتفاق نہیں کرتا۔
میرا سوال:محمدن لا اور شریعت کے مطابق، کیا ولدیت ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے؟ یا ولدیت اور وراثت کا فیصلہ صرف نکاح، پیدائش کے ریکارڈ، اقرار اور شرعی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے؟
واضح ہو کہ شرعاً ثبوت نسب و ولدیت کے لئے اتنا کافی ہے کہ نکاح کے کم از کم چھ ماہ بعد ولادت ہو اور باپ بچے کی ولدیت سے انکار نہ کرے ، لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کے والد کانکاح اور پھر اس کے نتیجہ میں سائل کی ولادت ،نیز سائل کے والد کا سائل کو اپنا بیٹا تسلیم کرنا اگر لوگوں میں معروف ہو، اور اس کا سرکاری ریکاڑد بھی موجود ہو ، تو اب پہلی بیوی کی اولاد اور چچا کا سائل کے ثبوت ولدیت کے لئے ڈی این اے کامطالبہ شرعاً غلط ہے، اور نہ ہی اس بنیاد پر ثبوت نسب و عدم ثبوت کے فیصلہ کی شرعاً کوئی حیثیت ہے، اس لئے ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس غیر شرعی مطالبہ سے احتراز کریں ۔
کما فی صحیح البخاری: الولد للفراش وللعاهر الحجر الخ (كتاب الفرائض،ج: 2،ص:999،ط: قدیمی کتب خانہ)
وفی عمدۃ القاری : لقوله تعالى: {ولا تقف ما ليس لك به علم} (الإسراء: 63) . وليس في حديث المدلجي دليل على وجوب الحكم بقول القافة لأن أسامة كان نسبه ثابتا من زيد قبل ذلك، ولم يحتج النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك إلى قول أحد، وإنما تعجب النبي صلى الله عليه وسلم من إصابة مجزز كما يتعجب من ظن الرجل الذي يصيب ظنه حقيقة الشيء الذي ظنه، ولا يثبت الحكم بذلك، وترك رسول الله، صلى الله عليه وسلم الإنكار عليه لأنه لم يتعاط في ذلك إثبات ما لم يكن ثابتا ۔اھ ( ج: 16 باب صفۃ النبی صل اللہ علیہ وسلم ص : 110 ناشر: بیروت )
وفي ردالمحتار: (تحت قوله: على أربع مراتب): ضعيف: وهو فراش الأمة لا يثبت النسب فيه إلا بالدعوة. ومتوسط: وهو فراش أم الولد، فإنه يثبت فيه بلا دعوة، لكنه ينتفي بالنفي. وقوي: وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعي فإنه فيه لا ينتفي إلا باللعان.الخ(مطلب: الفراش على أربع مراتب،ج:3،ص:550،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط اھ (الفصل الخامس عشر فی ثبوت النسب، ج:1، ص:536 ، ناشر: ماجدیہ)
وفیہا ایضاً: «يصح إقرار الرجل بالولد بشرط أن يكون المقر له بحال يولد مثله لمثله، وأن لا يكون المقر له ثابت النسب من غيره، وأن يصدق المقر له المقر في إقراره إذا كانت له عبارة صحيحة وبالوالد إذا كان المقر يولد لمثله، وأن لا يكون المقر ثابت النسب من غيره،»( «[الباب السابع عشر في الإقرار بالنسب]» ،ج: 4 ص: 210 ناشر: ماجدیہ)
وفی الھدایۃ: وإذا تزوج الرجل امرأة فجاءت بولد لأقل من ستة أشهر منذ يوم تزوجها لم يثبت نسبه" لأن العلوق سابق على النكاح فلا يكون منه(باب ثبوت النسب،ج:2،ص:281،ناشر:بیروت) وفي شرح المجلة: المادة 1741 :القرينة القاطعة هي الامارة البالغة حد اليقين مثلا اذا خرج احد من دار خالية خائفاً مدهوشاً في يده سكين ملوثة بالدم فدخل في الدار ورؤى فيها شخص مذبوح في ذلك الوقت فلا يشتبه في كونه قاتل ذلك الشخص ولا يلتفت الى الاحتمالات الوهمية الصرفة كأن يكون الشخص المذكور ربما قتل نفسه راجع المادة ( ٧٤ ).(فصل فی بیان القرینۃ القاطعۃ،ج:6،ص:390،ط:حقانیۃ)