میرے پھوپھا سسر کا میری ازدواجی زندگی میں بہت عمل دخل ہے،میں جب اپنی بیوی کو کہتا ہوں کہ اپنے پھوپھا سے پردہ کرو یا دیگر نا محرموں سے پردہ کرو تو میرے پھوپھا سسر کہتے ہیں کہ: یہ تو میری بچی ہے،اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں ،جب کہ میر ے سسر زندہ ہیں،میرے پھوپھا سسر میری بیوی کو کہتے ہیں کہ نہیں رہنا وہاں (یعنی میرے ساتھ)میرا دل کرتا ہے کہ میں اپنے پھوپھا سسر کو ملنا چھوڑ دوں اور نہ اپنی بیوی کو ملنے دوں ،کیا یہ قطع رحمی تو نہیں ہوگی؟
سائل کی بیوی کے پھوپھا سسر (بیوی کی پھوپھی کا شوہر) چونکہ اس کے لیے نامحرم ہیں، اس لیے ان کے ساتھ بے پردگی، بے تکلفی، اور ہنسی مذاق کرنا شرعاً ناجائز ہے، جبکہ بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کی اطاعت کرتے ہوئے ان سے پردہ کرے، نیز سائل اپنی بیوی کو ایسی غیر شرعی امور سےروکنے میں حق بجانب ہیں ، اور یہ اس کی ذمہ داری ہے ،اسی طرح پھوپھا سسر پر بھی لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے احکامِ شرعیہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان پر چلنے کی کوشش کرے ،البتہ ضرورت کے وقت شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے بقدر ضرورت بات چیت میں حرج نہیں، اور سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے پھوپھا سسر سے مکمل قطع تعلقی کی بجائے حکمت سے اپنی بیوی کو آہستہ آہستہ تعلقات کم کرنے پر آمادہ کرے ،تاکہ شرعی حدود کا لحاظ بھی رہے اور خاندانی اختلافات سے بچاؤ بھی ممکن ہو، لیکن اگر پھوپھا سسر کسی صورت اپنے رویہ میں تبدیلی پر راضی نہ ہو تو ان سے قطع تعلق کرنا بھی درست ہو گا ،بلکہ حکم شرعی پر عملدرآمد کہلائے گا ،اس لیے اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔