زید عمرہ کرنے گیا اور اس نے عمرے کے بعد اپنے اللہ سے یہ کہا !یا اللہ ! اب میں بڑے بال رکھوں گا اور یہ بال اب پھر تب کٹواؤں گا جب تو نے مجھے پھر حرم آنے کی اور حج وعمرہ کرنے کی توفیق دی ، کیا زید کے ان الفاظ سے اس پر منت کا پورا کرنا واجب ہو گیا ۔
اس طرح بولنے سے نہ تو شخص مذکور پر نذر لازم ہوئی اور نہ ہی یہ نذر کے الفاظ ہیں ، اور نہ آئندہ حج و عمرہ کے سفر تک بال لمبے کیے رکھنا عبادت اور آداب میں سے ہے، بلکہ اس طرح کی باتیں محض جذباتی ہیں ، جن سے آئندہ احتراز چاہیئے۔ اور زید بوقتِ ضرورت جب چاہے بال منڈوا اور کٹوا سکتا ہے۔
کما فی الدر المختار : (ولم يلزم) الناذر (ما ليس من جنسه فرض كعيادة مريض وتشييع جنازة ودخول مسجد) ولو مسجد الرسول - صلى الله عليه وسلم - أو الأقصى لأنه ليس من جنسها فرض مقصود وهذا هو الضابط اھ (3/736)۔