پاکستان بلخصوص پنجاب میں ہزاروں سرکاری اساتذہ (مرد و خواتین) روزانہ 10 سے 50 کلومیٹر سفر کر کے پرائیویٹ یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسکول پہنچتے ہیں، ٹریفک، ٹوٹے پھوٹے راستے، موسم اور دیگر حقیقی وجوہات ومسائل کی بنا پر کئی بار وہ ڈیوٹی پر دیر سے پہنچتے ہیں، جس سے چند منٹوں سے لے کر ایک ڈیڑھ گھنٹے کاوقت ضائع ہو جاتاہے، گورنمنٹ سکولوں کے ہیڈماسٹرز کے پاس اختیارات نہیں کہ وہ تنخواہ کاٹیں، وہ بس تنبیہ و تائید کرسکتے اور کرتے ہیں، اساتذہ کو حاضری رجسٹر میں 7/8 بجے کی حاضری لکھنی پڑتی ہے تاکہ اگر کوئی اعلیٰ افسر اچانک معائنہ کرے تو معطلی یا سزا سے بچ سکیں،البتہ بہت سے اساتذہ عادتاً وقت کی پابندی نہیں کرتے اور ہمیشہ دیر سے آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جو اساتذہ مجبوراً دیر سے پہنچتے ہیں، کیا وہ بھی گناہگار ہیں؟ اور اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد دیر سے آئے یا جلدی چلا جائے تو کیا اس وقت کی تنخواہ حلال ہوگی یا حرام؟ اور اگر حرام ہے تو اس کا کیا کیا جائے؟کیونکہ حکومت کو جا کر یہ کہنا ممکن نہیں کہ ہم اسکول دیر سے آتے ہیں، اسی لیے تنخواہ کاٹ لی جائے، ایسا کرنے سے معطلی یا ملازمت ختم ہونے کا خطرہ ہے۔
واضح ہو کہ محکمہ تعلیم یااسکول انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ تعلیمی اوقات کی پابندی کرنا اور ان اوقات میں متعلقہ امور اور ذمہ داریوں کی انجام دہی ملازمین پر شرعا لازم ہو تی ہے ،ورنہ اس میں خیا نت کی صورت میں کوتاہی کے بعد تنخوا ہ کی وصولی درست نہ ہو گی ،لہذا مذکور اسکول ملازمین کا انتطامیہ اور متعلقہ محکمہ سے چھٹی ورخصت لیے بغیر ایک سے دوگھنٹوں کی تاخیر کرنا اور اسے مستقل عادت بنانا خیانت اور طلباء کی حق تلفی پر مبنی عمل ہے ، جس سے احترز لازم ہے ۔
اسیطرح اساتذہ کے لیے مقررہ وقت سے تاخیر کرنا یا وقت سے پہلے چلے جانا نیز رجسٹر میں جھوٹ اندراج کرنا بھی جائز نہیں،اور ا گر کوئی استاذ بغیر کسی عذر کے مقررہ وقت کے بعد آئے یا جلدی چلا جائے، تو اس کیلئے اس وقت کی تنخواہ لینا درست نہ ہوگا، لہذا ایسے اساتذہ کو چاہیئے کہ اتنی رقم تاخیر کی صراحت کے بغیر کسی بھی نام سے اسی ادارہ کو واپس کریں ۔
کما فی النتف فی الفتاوی : والاجارۃ لا تخلو من وجھین: إما أن تقع علی وقت معلوم أو علی عمل معلوم فإن وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرۃ الا بإتمام العمل إذا کا العمل مما لا یصلح أولہ الا بآخرہ وان کان یصلح اولہ دون آخرہ فتجب الاجرۃ بمقدار ما عمل، وإذا وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرۃ بمضی الوقت إن ھو استعملہ أو لم یستعملہ وبمقدار ما مضی من االوقت تجب الاجرۃ الخ ( کتاب الاجرۃ،ص339، ط: سعید)۔
و فی الدر المختار : ( والثانی ) وھو الاجیر ( الخاص ) ویسمی اجیر وحد ( وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص ویستحق الاجر بتسلیم نفسہ فی مدۃ وان لم یعمل (الی قولہ ) ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من أجرتہ بقدر ما عمل الخ
وفی الشامیۃ تحت : ( قولہ وان لم یعمل ) أی إذا تمکن من العمل، فلو سلم نفسہ ولم یتمکن منہ لعذر کمطر ونحوہ لا أجر لہ کما فی المعراج عن الذخیرۃ ( الی قولہ ) ( قولہ لیس للخاص أن یعمل لغیرہ ) بل ولا أن یصلی النافلۃ قال فی التاتارخانیۃ وفی فتاوی الفضل وإذا استأجر رجلا یوما یعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذالک العمل الی تمام المدۃ ولا یشتغل بشئی آخر سوی المکتوبۃ الخ ( کتاب الاجارۃ، ج6، ص69، ط: سعید )
وفی ردالمحتارتحت قوله (إلا في حق الوارث إلخ): والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،الخ(مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج: 5، ص: 99، مط: سعید کراچی)