السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میرا نام محمد نعمان شہزاد ہے، اور میں مسجد خلفاء راشدین میں امامت کے فرائض انجام دے رہا ہوں ، اور جس گاؤں میں میں فرائض سر انجام دے رہا ہوں، اس علاقے میں بدعات و رسومات بہت زیادہ ہیں اور لوگ خود بھی یہ بدعات کرتے ہیں اور ساتھ مسجد کے امام کو بھی دعوت دیتے ہیں، اب مسجد اہلِ توحید لوگوں کی ہے اور ان کی تعداد بھی بہت کم ہے، اب اگر مسجد کا امام ان کی خرافات میں شرکت نہ کریں تو وہ لوگ مسجد بھی چھین سکتے ہیں اور ساتھ میں شر بھی پھیلاتے ہیں، میرا معمول ہے کہ میں خطبات اور بیانات میں بدعات و رسومات کے خلاف لوگوں کی اصلاح کرتا ہوں، تاہم بعض اوقات محلے کے کچھ افراد چوتھی یا جمعرات کی دعا جیسی رسومات کا انعقاد کرتے ہیں، جنہیں میں شرعاً درست نہیں سمجھتا، میں صرف اس نیت سے وہاں جا کر دعا کروا دیتا ہوں، تاکہ محلے میں فتنہ نہ پھیلے، شرپسند افراد مخالفت میں شدت اختیار نہ کریں اور مسجد کا ماحول خراب نہ ہو۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بدعتی موقع پر صرف دعا کروانا، جبکہ نیت شر سے بچاؤ کی ہو اور میں خود ان بدعات کا قائل نہ ہوں، شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل باقاعدگی سے اہلِ محلہ کی اصلاح کی غرض سے بدعات و رسومات کو ترک کرنے اور سنتوں کو اپنانے کی ترغیب دیتا رہتا ہو ، تو اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ اپنی بات کو مؤثر بنانے کے لئے عملی طور پر بھی ان باطل رسومات سے دور رہے، تاکہ قول و فعل کا تضاد نہ ہو ، لیکن اگر کسی موقع پر ایسی محفل میں شرکت ناگزیر ہو جائے اور وہاں نہ جانے سے فتنہ و فساد کا اندیشۂ قوی ہو تو اصلاح کی نیت سے جانے کی گنجائش ہے، تاہم اس قسم کی محافل میں جانے کو معمول بنانا جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز چاہیئے۔
کما فی سنن أبی داؤد: قال رسول اللہ ﷺ (إلی قولہ) وإیاکم ومحدثات الأمور فإن کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ الخ (کتاب السنۃ، باب لزوم السنۃ ج: 2، ص: 1602 ط: البشرٰی)۔
وفی الدر المختار : وباتخاذ طعام لھم الخ وفی رد المحتار : تحت : (قوله وباتخاذ طعام لھم) (الی قوله) و في البزازية : و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. و فيها من كتاب الاستحسان : و إن اتخذطعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج. و قال: و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ (باب صلاۃ الجنائز ، ج: 2 ، ص: 240 ، ط: سعید)ـ
وفی الدر المختار: الأصل أن من أتی بعبادۃ مالہ جعل ثوابھا لغیرہ الخ
وفی رد المحتار تحت: (قولہ بعبادۃ ما) أی سواء کانت صلوٰۃ أو صوما أو صدقۃ أو قراءۃ أو ذکراً أو طوافاً أو حجاً أو عمرۃ أو غیر ذلک من قبور أنبیاء علیھم الصلوۃ والسلام والشھداء والألیاء والصالحین الخ (باب الحج عن الغیر، ج: 2، ص: 595، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھدایۃ: الاصل فی ھذا الباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوۃ او صوما او صدقۃ او غیرھا عند اھل السنۃ والجماعۃ لما روی عن النبی ﷺ انہ ضحی بکبشین املحین احدھما عن نفسہ ولآخر عن امتہ الخ (باب الحج عن الغیر ج: 1، ص: 296، ط: مجیدیہ)۔