فارماسیوٹیکل کمپنیاں اکثر ڈاکٹروں کو تحائف، مراعات، اعزازی غیر ملکی دورے اور دیگر فوائد فراہم کرتی ہیں تاکہ ان کے مخصوص برانڈز کی ادویات کے نسخے کو فروغ دیا جا سکے۔ بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں یہ رواج بہت عام ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ اس طرح کے تعلقات میں مصروف ہے۔ یہ انتظامات عام طور پر زبانی یا پوشیدہ ہوتے ہیں، اور اس لیے ان کا انکشاف نہیں ہوتا، جس سے کسی کو جوابدہ یا ذمہ دار ٹھہرانا مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، ہسپتال انتظامیہ عام طور پر ان طریقوں سے واقف ہوتی ہے، پھر بھی مختلف وجوہات کی بنا پر وہ خاموش رہنے کا انتخاب کرتے ہیں۔
طبی اخلاقیات، بشمول ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن، اور مقامی میڈیکل کونسلز کے رہنما اصول، ڈاکٹروں کو ایسے تحائف یا مراعات قبول کرنے سے سختی سے حوصلہ شکنی یا سختی سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ پیشہ ورانہ آزادی سے سمجھوتہ کرتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر جو ان طریقوں میں مشغول ہوتا ہے اور ان فوائد سے لطف اندوز ہوتا ہے اسے صحیح معنوں میں مکمل طور پر ایماندار نہیں کہا جا سکتا، چاہے اس کی قابلیت یا مہربانی کچھ بھی ہو۔ ادویات میں حقیقی ایمانداری کے لیے غیر ضروری یا مہنگی ادویات اور ٹیسٹوں کا بوجھ ڈالے بغیر، غیر ضروری اثر و رسوخ سے آزادی، طرز عمل میں شفافیت، اور مکمل طور پر مریض کے بہترین مفاد میں تجویز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے ڈاکٹروں کا کردار اور وفاداری مریضوں کے تئیں ان کے فرض کے حوالے سے سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
اس کی روشنی میں اس سنگین معاملے پر میں احترام کے ساتھ فتویٰ طلب کرتا ہوں: کیا اس طرح کے تحفے، مراعات، غیر ملکی دورے اور اسی طرح کے فوائد اسلام میں حرام ہیں؟ کیا اس طرح کے طریقوں میں ملوث ہونے سے ڈاکٹر کی پوری آمدنی حرام ہو جاتی ہے؟
اللہ تعالیٰ اس فتویٰ کے پیش نظر ایسے ڈاکٹروں کو راہ راست پر لائے اور انہیں سچے اخلاص و دیانت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
واضح ہو کہ ڈاکٹروں کا فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے تحائف،وغیرہ وصول کرنے یا غیر ملکی دوروں پرجانے کے بدلے میں مخصوص برانڈز کی ادویات تجویز کرنا شریعت کی رو سے رشوت کے حکم میں آتا ہے جو حرام و ناجائز عمل ہے، ایسی مراعات ڈاکٹر کی نیت، پیشہ ورانہ دیانت، اور مریض کے اعتماد کو مجروح کرتی ہیں، اگر ڈاکٹر ان مفاد ات کے حصول کی خاطرغیر ضروری یا مہنگی ادویات تجویز کرتا ہے یا غیر ضروری ٹیسٹ لکھ کر دیتا ہے، تو وہ مریض کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہو رہا ہے جو شرعا ناجائز ہونے کے علاوہ قانونی اور اخلاقی جرم ہے جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔
کما فی مسند احمد: (عن ثوبان قال: " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي والرائش " يعني: الذي يمشي بينهما)۔ (تتمة مسند الأنصار،حديث ثوبان،ج: 37، ص: 85، ط: مؤسسة الرسالة)۔
وفی مسند البزار:(عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الراشي و المرتشي في النار)۔ (مسند عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه: ج:3، ص: 247، ط: مكتبة العلوم والحكم)۔
وفی اعلاء السنن: والحاصل أن حد الرشوة هوما يؤخذ عما وجب علي الشخص سواء كان واجبا على العين أو على الكفاية وسواء كان وجبا حقا للشرع كما في القاضي وأمثاله (الی قولہ) أو كان واجباً عقداً كمن آجر نفسه لإقامة أمر من الأمور المتعلقة بالمسلمين فيمالهم، أو عليهم كأعوان القاضي، وأهل الديوان وأمثالهم الخ۔ (باب الرشوۃ، ج:15،ص:68،ط:ادارۃ القرآن)۔
وفی رد المحتار: تحت(قوله: إن دلني إلخ) عبارة الأشباه إن دللتني. وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء الخ۔(مطلب ضل له شيء فقال من دلني عليه فله كذا،ج:6،ص:95،ط:سعید)۔