میرا سوال یہ ہے: میرے پاس کپڑے کی فیکٹری ہے، میں نے اپنی بیوی کے بھائی کو نوکری دے دی، بعد میں، میں نے اسے ایک گاہک کے آرڈر کی پوری ذمہ داری دے دی،میں نے اس سے کہا کہ اگر سامان کم ہوا تو اس کی ذمہ داری اس کی ہوگی، اور اگر صارف میری ادائیگی کاٹتا ہے تو میں اسے اس کی تنخواہ سے کاٹ دوں گا، کیونکہ یہ اس کی ذمہ داری تھی، یہ بھی اس کا فرض تھا کہ جب سامان وصول ہوتا تو اس کی پوری مقدار کو گنتا اور اس کی تصدیق کرتا، جب کھیپ بھیجی گئی تو سامان کم تھا اور میرے گاہک نے میری ادائیگی کاٹ دی، تو کیا اب میں اس شخص کی تنخواہ میں کمی کر سکتا ہوں جو ذمہ دار تھا؟کیونکہ میں نے اسے صاف صاف بتا دیا تھا اور وہ اس بات پر راضی ہو گیا تھا کہ اگر میری ادائیگی کٹ جائے تو میں اس کی تنخواہ کاٹ سکتا ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں اگرچہ حسبِ معاہدہ سائل کے مذکور برادرِ نسبتی کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری کھیپ کی مقدار کو گنتی کرکے پورا کرنا اور اس کی تصدیق کرنا ہو،لیکن اگر یہ کھیپ سائل کے کمپنی میں تیار ہوچکا ہو اور متعلقہ کسٹمر کو اس کمپنی سے پورا مال نہ ملنے پر انہوں نے اس قدر رقم منہا کی ہو تو چونکہ مال کم دینے کی وجہ سے عملاً سائل کا کوئی نقصان نہیں ہوا اس لئے سائل کا مذکور کسٹمر کے منہا کردہ رقم اپنے برادرِ نسبتی کی تنخواہ سے کاٹنا جائز نہ ہوگا، جس سے اجتناب لازم ہے،البتہ سوال کی نوعیت اگر مختلف ہو تو اس کی وضاحت کرکے مکرر معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی الدر المختار: (والثانی) وھو الأجیر (الخاص) ویسمی أجیر وحد (وھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص ویستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ وإن لم یعمل کمن استؤجر شھرا للخدمۃ أو) شھرا (لرعی الغنم) (إلی قولہ) (ولایضمن ما ھلک فی یدہ أو بعملہ) کتخریق الثوب من دقہ إلا إذا تعمد الفساد فیضمن کالمودع إلخ۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ ولایضمن ما ھلک فی یدہ ) أی بغیر صنعہ بالاجماع، وقولہ أو بعملہ: أی الماذون فیہ، فإن أمرہ بعمل فعمل غیرہ ضمن ما تولد منہ تاترخانیۃ إلخ(کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر، ج: 6، ص: 69۔70، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعا حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذ هكذا في شرح الطحاوي إلخ(کتاب الإجارۃ، الباب الثانی والعشرون فی بیان حکم الأجیر الخاص إلخ، ج: 4، ص: 500، ط: ماجدیۃ)۔