محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میں چائنہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آ یا ہوں۔ یہاں گزر بسر کے لیے حکومتِ چائنہ مجھے کچھ ماہانہ رقم دیتی ہے، اس رقم میں سے میں کچھ رقم محفوظ کر لیتا ہوں۔ یہاں پر اس رقم کو بینک کے ذریعے سے اپنے ملک بھیجنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، میں نے کئی بار کوشش کی ہے تمام کاغذات ، بینک اسٹیٹمنٹ ، ویزا ، وغیرہ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی سے لکھوا کے لاؤ کہ یہ سکالرشپ کی رقم ہے۔ لیکن یونیورسٹی ایسا نہیں لکھ کر دیتی۔میرے پاس دو راستے ہیں۔ ( 1 ) یہ ساری رقم ادھر چھوڑ کر آ جاؤں ۔ (2)میں اس رقم کو حوالہ ہنڈی کے ذریعے اپنے ملک بجھوا دوں ۔کیا شرعی حیثیت سے یہ طریقہ جائز ہو گا۔
صورتِ مسئولہ میں اولاً سائل کو اپنی رقم کی ترسیل کے لیے قانونی طریقہ کار ہی اختیار کرنا چاہیئے ۔ تاہم اگر بینک یا کسی اور جائز قانونی ذریعے سے رقم بھیجنا ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں ہنڈی (حوالہ) کے ذریعے رقم بھیجنے کی گنجائش ہے۔ البتہ اس میں اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ رقم بھیجتے وقت بیرونِ ملک یا پاکستان کے رائج ریٹ کے مطابق رقم متعین کی جائے، اور اگر رائج قیمت سے زیادہ یا کم ریٹ طے کی گئی تو یہ جائز نہیں ہوگا۔ نیز جتنی رقم دی جائے، اتنی ہی رقم آگے پہنچانا لازم ہوگا، اس میں کمی بیشی جائز نہیں۔ البتہ بطورِ فیس، اجرت الگ سے طے شدہ اضافی رقم لی جا سکتی ہے۔
کما فی حاشیۃ ابن عابدین: وفي شرح الجواهر: تجب إطاعته فيما أباحه الشرع، وهو ما يعود نفعه على العامة، وقد نصوا في الجهاد على امتثال أمره في غير معصية اھ ( کتاب الأشربۃ، ج:6، ص: 460، ناشر: سعید )-
و فی الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ ( فصل فی القرض، ج: 5، ص: 166، ناشر: سعید )-