السلام علیکم!
جناب میں نے اپنی بیٹی کو شادی میں جو زیورات دیے تھے وہ اپنے ساتھ کراچی لے کر جانا چاہ رہی ہے، شادی کو ایک سال ہوا ایک مرتبہ بھی کراچی نہیں آئیں اپنے ماں باپ سے ملنے، سسرال والے زیورات دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں ،اس سلسلے میں فتوہ فرمائیں شکریہ کے ساتھ، والسلام۔
واضح ہوکہ شادی کے موقع پر لڑکی کو والدین کی طرف سے جو کچھ زیورات وغیرہ اور جہیز کا دیگر سامان مالک بناکر دیا جاتا ہے وہ شرعاً اس کی ملکیت ہو جاتا ہے ،لہذا سائل کی بیٹی کو والدین اور اہل خانہ کی طرف سے جو زیورات اور دیگر سامان دیا گیا ہے وہ شرعاً اس کی ملکیت ہے ، ان اشیاء میں وہ جس طرح تصرف کرنا چاہے کر سکتی ہے، سسرال والوں کا زیورات اپنے پاس روک رکھنا یا اسے اس میں اپنی مرضی سے تصرف نہ کرنے دینا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى (الی قولہ) و إذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية الخ (الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج: 1، ص: 327، ط: ماجدیۃ)
کما فی شرح المجلۃ: لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي، أی لا یحل فی کل الأحوال عمداً أو خطأً أو نسیاناً، جداً أو لعباً؛ أن یأخذا أحد مال أحد بوجہ لم یشرعہ اللہ تعالی و لم یبحہ الخ ( المادۃ: 97، ج: 1-2، ص: 264، ط: مکتبۃ اسلامیۃ )۔