اجرت و کرایہ داری

آن لائن ٹیوشن پڑھانا اور اس پر اجرت لینے کا حکم

فتوی نمبر :
88617
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / اجرت و کرایہ داری

آن لائن ٹیوشن پڑھانا اور اس پر اجرت لینے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل لوگوں نے آن لائن قرآن اکیڈمیاں کھولی ہوئی ہیں، اس میں وہ لوگ ٹیوشن بیچتے ہیں، مثال کے طور پر ایک آدمی کے پاس 20 ٹیوشن ہیں، وہ روزانہ پڑھاتا ہے، اس کی فیس بھی اپنے اکاؤنٹ میں منگوا لیتا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ ٹیوشن بیچتے ہیں، وہ اس طرح کہ ایک لاکھ روپے وہ لیتے ہیں، اگلے آدمی کو 25 ہزار کا ٹیوشن دیتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اگلا آدمی ٹیوشن پڑھائے گا تو اس کے اکاؤنٹ میں وہی لوگ جو پڑھنے والے ہیں 25 ہزار بھیج دیں گے، چاہے ٹیوشن دو بن جائیں، تین بن جائیں یا ایک ہی ٹیوشن 25 ہزار کا ہو یا دو ٹیوشن 25 ہزار کے ہوں، تو آیا اس طرح کا ٹیوشن بیچنا کیا شرعی لحاظ سے صحیح ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو دلیل بتا دیں، اگر جائز نہیں ہے تو وجہ بتا دیں، اور اگر جائز نہیں ہے تو پھر جواز کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ اور اگر جائز ہی نہیں ہے تو سارے لوگ جو اس طرح ٹیوشن بیچ رہے ہیں اور لوگ اس طرح آگے پڑھا رہے ہیں، تو آیا ان کی کمائی حلال ہے یا حرام ؟ اور یہ بھی مزید وضاحت فرما دیں کہ اگر وہ اکیڈمی والے خود پیسوں کے ساتھ ٹیوشن خرید کر پھر ہمیں دیتے ہیں، یا پیسوں کے ساتھ نہ خریدا ہو، بلکہ ایڈ چلا کر ان کے ٹیوشن آئے ہوں، پھر ہمیں کہتے ہیں آپ پڑھائیں تو ان ٹیوشنز کی آدھی فیس آپ کی، آدھی فیس ہماری، کیا اس طرح کرنا بھی صحیح ہے؟ براہِ کرم شرعی مسئلے کی وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایڈ چلا کر بچوں کو تعلیم کے لئے آمادہ کرنا یا کسی کو پیسے وغیرہ دے کر اس سے سٹوڈنٹ لے لینا اور پھر مذکور ٹیوشن کسی اور کو فروخت کر کے پہلی دفعہ کمیشن (اجرت) لینا تو شرعاً جائز اور درست ہے، البتہ ایک دفعہ سٹوڈنٹ کسی کو دے کر ہر ماہ اس شخص سے کمیشن یا اجرت لینا شرعاً جائز نہیں۔ جواز اور عدمِ جواز کی وجہ یہ ہے کہ پہلی دفعہ میں تو عمل پائے جانے کی وجہ سے اس پر طے شدہ معاوضہ (کمیشن) لینا درست ہے، جبکہ دوسرے اور تیسرے مہینے میں چونکہ الگ سے کوئی عمل نہیں پایا گیا، اس لئے اس پر کوئی معاوضہ لینا درست نہیں۔
اگر شخص مذکور ٹیوشن نہ بیچے، بلکہ اس سٹوڈنٹ سے معاملہ از خود جاری رکھے اور اس سے فیس بھی خود وصول کرتا رہے، مگر اس پڑھانے والے کو اپنی ایک طے شدہ اجرت دیتا رہے تو چونکہ اس صورت میں پڑھانے والا اور اس سٹوڈنٹ کے درمیان کسی قسم کا کوئی عقد نہیں، اس لئے یہ صورت جائز اور درست ہے۔
اسی طرح اگر دو اشخاص مل کر یہ عقد کریں کہ میں سٹوڈنٹ فراہم کروں گا اور تم ان کو پڑھانا، دونوں مل کر کام کریں گے اور جو آمدنی ہوگی، وہ دونوں برابر برابر تقسیم کریں گے تو یہ صورت شرکت فی الاعمال کی ہے جو بلاشبہ جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض). (كتاب الأجارة، ج: 6 ، ص: 4 ، ط: سعيد)ـ
وفی الفقۃ الاسلامی و ادلتہ: بيع السمسرة: السمسرة: هي الوساطة بين البائع والمشتري لإجراء البيع. والسمسرة جائزة، والأجر الذي يأخذه السمسار حلال؛ لأنه أجر على عمل وجهد معقول اھ (بیع السمسرۃ ، ج: 5 ، ص: 21 ، ط: احیاء تراث العربی)ـ
وفی رد المحتار : إن دلني على كذا فله كذا فدله فله أجر مثله إن مشى لأجله.(قوله إن دلني إلخ) عبارة الأشباه إن دللتني. وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء. قال في السير الكبير: قال أمير السرية: من دلنا على موضع كذا فله كذا يصح ويتعين الأجر بالدلالة فيجب الأجر اهـ. (كتاب الإجارة، باب فسخ الإجارۃ ، ج: 6 ، ص: 95 ، ط: سعيد)ـ
کما فی الدر المختار : (لا تصح الإجارة لعسب التيس ) (الی قوله) ( و ) لا لأجل الطاعات مثل ( الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه ) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان الخ
وفی رد المحتار : تحت : (قوله ویفتی الیوم بصحتہا لتعلیم القرآن الخ) (الی قوله) وقد رده الشيخ خير الدين الرملي في حاشية البحر في كتاب الوقف حيث قال : أقول المفتى به جواز الأخذ استحسانا على تعليم القرآن لا على القراءة المجردة كما صرح به في التاترخانیة حيث قال : لا معنى لهذه الوصية ولصلة القارئ بقراءته لأن هذا بمنزلة الأجرة والإجارة في ذلك باطلة وهي بدعة ولم يفعلها أحد من الخلفاء ، وقد ذكرنا مسألة تعليم القرآن على استحسان يعنى للضرورة ولا ضرورة في الاستئجار على القراءة على القبر وفى الزيلعي وكثير من الكتب : لو لم يفتح لهم باب التعليم بالأجر الذهب القرآن فأفتوا بجوازه ورأوه حسنا فتنبه اه كلام الرملي اھ (کتاب الاجارۃ ، باب الاجارۃ الفاسدۃ ، ج: 6 ، ص: 55 ، ط: سعید)ـ
وفی ردالمحتار: مطلب في أجرة الدلال: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به الخ (کتاب الاجارۃ ، ج: 6 ، ص: 63 ، ط: سعید)ـ
وفی الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ : إذا اشترطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا وليس له أن يطالب بالأجرة .أما في الحالة الثانية وهي أن يكون الوكيل من أصحاب المهن الذين يعملون بالأجر لأن طبيعة مهمتهم تقتضي ذلك كالسمسار والدلال فيستحق الوكيل الأجرة حتى ولو لم يتفق عليهاوقت التعاقد، وحينئذ يجب له أجر المثل. (أخذ الأجرة على الوكالۃ ، ج: 45 ، ص: 91 ، ط: دارالسلاسل)ـ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سرتاج خان ملی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88617کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • گھاس کاٹنے والے کو آدھی گھاس اجرت میں دینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • بقرہ عید پر گائے کھڑی کرنے کی پارکنگ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   اجرت و کرایہ داری 0
  • حرام آمدن والے کو مکان کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کمپنی کے ملازم کا کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کا مال فروخت کرنے پر کمیشن لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • جرگہ کے منصفین کا ، فریقین کے درمیان فیصلوں پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • زیادہ ایڈوانس رقم کی وجہ سے کرایہ میں کمی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • تعلیمِ قرآن پر اجرت لینا

    یونیکوڈ   انگلش   اجرت و کرایہ داری 0
  • ایمازون پر ورچوئل اسٹینٹ کی حیثیت سے کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • تعلیمِ قرآن پر اُجرت لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کرایہ کی تعیین کا حق اور حقِ شفعہ مالک کا ہے یا کرایہ دار کا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • امامت اور دیگر دینی امور و اعمال پر اجرت کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 3
  • ایزی پیسہ اور جاز کیش میں اضافی چارجز لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • بے ضابطگی کرنے پر ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • نماز جنازہ کیلئے کسی امام کا مخصوص اجرت لینا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 2
  • تعمیر سے پہلے بلڈنگ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قسطوں پر گھر بیچنے کے بعد کرایہ کا حقدار کون ہوگا ؟

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کمیشن ایجنٹ کا فریقین کو بتلائے بغیر اپنا کمیشن رکھنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 1
  • غیر مسلم ٹھیکدار , جو کرپشن بھی کرتا ہو , اس کے پاس کام کرنا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • میڈیکل اسٹور والوں کو لائسنس کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • قادیانی بچوں کو انگلش پڑھاکر فیس لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • ڈاکٹر کا مریض ریفر کرنے پر میڈیکل اسٹور والے سے کمیشن لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • کسٹمرز لانے پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
  • دودھ کے لئے بھینس کرائے پر لینا

    یونیکوڈ   اجرت و کرایہ داری 0
Related Topics متعلقه موضوعات