میں ایک ACCA اسٹوڈنٹ ہوں اور مستقبل میں ” اکاؤنٹینسی“ کے شعبے میں کام کرنا چاہتی ہوں،میں یہ وضاحت کرنا چاہتی ہوں کہ میں کسی بھی سود یا سود پر مبنی رول میں کام نہیں کرنا چاہتی،اگر میں کسی ایسی کمپنی میں کام کروں جہاں میری ذمہ داریاں صرف مالی ریکارڈ تیار کرنا، ترتیب دینا اور رپورٹ کرنا ہوں، اور میں براہِ راست کسی سودی ٹرانزیکشن میں شامل نہ ہوں،صرف وہ اندراج کرتی ہوں جو کمپنی پہلے سے کر چکی ہے،تو کیا ایسی صورت میں میری آمدنی حلال ہوگی؟ اور کیا بہتر ہے کہ میں احتیاط کے طور پر کوئی معمولی رقم صدقہ کر دیا کروں؟ براہِ کرم مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی ایسی کمپنی میں جس کے معاملات سود پر مبنی ہوں”اکاؤنٹینسی“ (مالی معاملات کا حساب کتاب،اکاونٹس بنانے،آمدنی کے خرچ ہونے کی تفصیلات لکھنے )کی ملازمت اختیار کر نا شرعاً جائز نہیں ،کیونکہ اس کی وجہ سے براہ راست سودی معاملات کے درمیان معاون بننا لازم آتا ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کا کسی ایسی کمپنی میں جو سودی معاملات پر مشتمل ہواس کے اکاؤنٹنینس کی ملازمت اختیار کرنا شرعا ًناجائز اور حرام ہے ، جس سے اجتناب لازم ہے ،البتہ اگر کوئی ایسا کام جس کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے نہ ہو تو ایسی صورت میں ملازمت کرنے کی شرعا گنجائش ہے۔
کما قال اللہ تعالی:أحل اللہ البیع و حرم الربوا الآیۃ(سورۃ البقرہ آیت 257،)۔
و فی صحیح لمسلم: عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سواء ( کتاب البیوع ج: 3 ، ص: 1219، ط: دار إحیاء التراث العربی)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0