اسلام علیکم
ایک شخص کی بیوی نےطلاق لے لی اپنے شوہر سے اس سے 2 بچے بھی ہیں طلاق کے بعد اگریمنٹ ہوا کہ بچے 5 دن ماں کے پاس اور 2 دن باپ کے پاس رہنگے مرد نے دوسری شادی کرلی لیکن اب بچے6 دن باپ کے پاس رہتے ہیں 1 دن اپنی سگی ماں کے پاس جاتے ہیں کیونکہ انکی سگی ماں جاب کر تی ہے۔۔بچوں کی عمر 8 اور 15 سال ہےدوسری بیوی سے شوہر کا ازدواجی تعلق نہیں ہے۔۔۔
سوتیلی ماں اگر اپنے شوہر کے بچوں کاکام کر رہی ہے شوہر کی خشنودی کے خاطر جبکہ بچوں کی سگی ماں بھی حیات ہے تو شوہر کی دوسری بیوی پر سوتیلے بچوں کا کام کر نا فر ض ہے یا اس پر اجر و ثواب ہے اور اسلام میں سوتیلے بچوں کے لیے بھی کیا حکم ہے اپنی سوتیلی ماں کے لئے۔۔؟
سائلہ کا شوہر کی خوشنودی کے لیے ان کی دوسری بیوی سے ہونے والی اولاد کی دیکھ بھال کرنا اور خدمت کرنا بلا شبہ ایک مستحسن اور موجبِ ثواب عمل ہے، یہ بھی شوہر ہی کی خدمت کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ احادیثِ مبارکہ میں شوہر کو خوش رکھنے پر بہت فضائل وارد ہوئے ہیں، اسی طرح سائلہ مذکور بچوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہیں ان بچوں پر اپنی سوتیلی والدہ کا لحاظ اور احترام اسی طرح لازم ہے جیساکہ حقیقی والدہ کے لیے ہوتا ہے، نیز سائلہ کے شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ ان بچوں کے ذہن میں اس بات کو بٹھائے تاکہ خوش اسلوبی سے بچوں کی تربیت ہو سکے۔
كما قال الله تعالى في القرآن المجيد:وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَمَقۡتٗا وَسَآءَ سَبِيلًا(سورة النساء:آيه:٢٢)
و في سنن ابن ماجہ: عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة(باب ما جاء في حق الزوج على المرأة، ص:٣٨١،مط:البشرى)