محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔عرض یہ ہے کہ میری بہن کے لیے ایک رشتہ آیا ہے۔ متعلقہ لڑکا بینک الحبیب میں ملازمت کرتا ہے اور وہاں آپریشن مینیجر کے عہدے پر فائز ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں آن لائن ٹرانزیکشنز، چیک کلیئرنگ اور ریمیٹینس (Remittance) وغیرہ کا کام شامل ہے۔ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس نوعیت کی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً حلال ہے یا نہیں؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس بارے میں ہماری رہنمائی فرما دیں، تاکہ ہم درست فیصلہ کر سکیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
ہماری معلومات کے مطابق مذکور بینک کی غیر سودی برانچز بھی موجود ہیں ،لہذا مذکور لڑکا اگر کسی غیر سودی برانچ میں ملازم ہو تو اس کی ملازمت جائز اور درست ہے اور حاصل ہونے والی تنخواہ بھی حلال ہے ۔اور اس سے رشتہ کرنا بھی درست ہے، لیکن اگر کسی سودی برانچ میں ملازم ہو تو چونکہ اس ملازمت کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے ہے ،لہذا اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام ہے ۔تاہم اگر مذکور لڑکا اس ملازمت کو چھوڑ نے کیلئےآمادہ نہ ہو تو پھر ایسی صورت میں اس جگہ رشتہ کرنے سے اجتناب کیا جائے،لیکن اگروہ اس ملازمت کو چھوڑ نے پر آمادہ ہو،لیکن فی الحال کوئی دوسری ملازمت نہ ملے تو مجبوراً اس ملازمت کو جاری رکھنے کی گنجائش ہے،البتہ تلاش مسلسل جاری رکھے اور ساتھ توبہ واستغفار بھی کرتارہےاور جیسے ہی دوسری کوئی جائز ملازمت مل جائے تو یہ ملازمت ترک کردے۔
قال اللہ تعالیٰ: یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ و ذروا ما بقی من الربوٰ إن کنتم مؤمنین فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ (سورۃ البقرہ، آیت نمبر 278،)۔
وفی صحیح مسلم: عن جابر قال: لعن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ علیہ و سلم آكل الربا و موكله و كاتبه و شاهديه ، و قال ھم سواء الخ (کتاب البیوع ، ج: 3 ، ص: 1219 ، ط: دار احیاء التراث العربی)۔
وفی فقہ البیوع : السابع: ان یؤجر المرأ نفسه للبنک بان یقبل فیه وظیفۃ فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل: التعاقد بالربا أخذاً أو عطاء، أو حسم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليھا، أو تقاضي الفوائد الربوية، أو دفعھا، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليھا، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإنّ الإدارة مسؤولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبھا حرام.و من کان مؤظفا فی البنک بھذا لشکل ، فإن راتبہ الذی یأخذہ من البنک کلہ من الأکساب المحرمۃ۔ اھ (المبحث العاشر فی احکام المال الحرام ، ج: 2 ، ص: 1064 ، ط: معارف القرآن)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0