ایک شخص ہے جو یہاں سے مال لیکر سعودیہ جاتا ہے اور سعودیہ سے یہاں پر لے کر اتا ہے اب اس مال کے اندر لیگل اور ان لیگل سب اشیاء شامل ہوتی ہے حتیٰ کہ ممنوع میڈیسن وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں وہ اس کی خرید و فروخت کرتا ہے تو اس کی آمدن کا کیا حکم ہے اور دوسرا شخص اس سے لیکر اگے سپلائی کرتا ہے اگرچہ وہ جاتا ساتھ نہیں ہے لیکن سپلائی کرنے لگتا ہے اس کو تو دونوں شخصوں کے بارے میں بتا دیں کیا حکم ہے اس کے گھر دعوت میں کھانا کھا سکتے ہیں ؟؟؟
مذکور شخص اور اس کے ساتھ کام کر نے والے دوسرے شخص کا اپنی جان عزت و آبرو خطرے میں ڈال کر غیرقانونی اشیاء کی درآمدو برآمد کاکاروبار کرنا تو قطعاً درست طرز عمل نہیں جس سے انہیں اجتناب لازم ہے ،تاہم مذکور افراد کی خرید و فروخت اگر جائز اشیاء کی ہو تو ان کی آمدنی حرام شمار نہ ہوگی ، چنانچہ ان کے گھروں کا کھانا کھا یا جاسکتاہے ۔
وفي الحجة الله البالغة:الْإِعَانَة فِي الْمعْصِيَة وترويجها وتقريب النَّاس إِلَيْهَا مَعْصِيّة وَفَسَاد فِي الأَرْض،الخ (ج:2 مبحث في البیوع المنھی عنہا ص : 169 ناشر : بیروت)
وفي بدئع الصنائع :فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال فلا بد من معرفة المبيع والثمن لمعرفة حكم البيع الخ( ج : 5 فصل فی حکم البیع ص : 233 ناشر: المطبعۃ الجمالیہ بمصر)
وفيه ايضا :أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال الخ (ج؛5 فصل فی شرط الذی یرجع المعقود علیہ ص : 140 )
وفي حاشية ابن العابدين: قال في المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اهـ(ج:2 باب العیدین ص : 172 ناشر سعید)
وفی حاشیۃ ابن العابدین :«قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته» (الی قولہ)«أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة»الخ (مطلب طاعۃ الامام واجبۃ،ج: 5 ص: 422،ناشر: سعید )