کیا تصویر لینا جائز ہے؟
واضح ہو کہ جاندار کی جن تصاویر کو خارج میں دیکھنے کی اجازت ہو اگر ان کی تصاویر صرف اسکرین کی حد تک محدود ہوں ان کا باقاعدہ پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے تو ان تصاویر کا تصاویر محرمہ کے تحت داخل ہونے میں اہل ِعلم کا اختلاف ہے ، چنانچہ اکابرِ علماء کی تحقیق کے مطابق وہ تصاویر محرمہ میں داخل نہیں ، لہذا موبائل کے ذریعہ لی گئی تصاویر بھی ڈیجیٹل تصویر ہے ، لہذا موبائل کے ذریعہ ان جانداروں کی تصاویر لینا جن کا نفس الامر اور خارج میں دیکھنے کی اجازت ہو مباح ہے ، بشرطیکہ یہ تصاویر ڈیجیٹل ڈیوائس تک محدود رہیں اور کسی کاغذ وغیرہ پر اس کا پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے ، تاہم آج کل تصویر کشی اور ویڈیوز بنانا جس قدر عام ہو رہا ہے اس سے عوام الناس کے دل سے تصویر کی حرمت اور اس کی برائی نکلتی جا رہی ہے ،اس لئے بغیرہ ضرورت کے اس سے بھی اجتناب کرنا بہرحال افضل اور بہتر ہے ۔
کما فی تکملۃ فتح الملھم : اما التلفزیون و الفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ ( الی قولہ ) اما الصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ و یبدوا ان صورۃ التلفزیون و الفدیوا لا تستقر علی شیئ فی مرحلۃ من المراحل۔ اھ ( ج :4 ، ص: 164 ، ط : دار العلوم کراتشی )